Chapter

بے بسی

دیکھیں جاوید صاحب آپ کے بھائی کو برین انجری ہوئی ہے میڈیکل ٹرمنالوجی میں اس کو ٹرامیٹک برین انجری بولتے ہیں اور جس کی وجہ سے ان کو ہیمیپلیجیا (Hemeplegia) ہوا ہے ہیمیپلیجیا سے جسم کا آدھا حصہ پیرالائز ہو جاتا ہے۔ اور آپ کے بھائی کی اپر لمب پیرالائیزڈ ہے۔

ڈاکٹر فرید فرفر میڈیکل ٹرمز بولتے جا رہے تھے اور اگلی طرف جاوید اور اس کے دوست دم ساندھے ڈاکٹر کو سن رہے تھے۔

سر میرا بھائی تو اچانک بے ہوش ہو کے گرا تھا۔ اور ظاہری طور پہ کوئی بھی زخم نہیں تھا اسے۔ یہ لاچاری جاوید کی تھی۔

جاوید نے ڈاکٹر سے کنسلٹ کرنے سے پہلے والدہ کو زبردستی گھر بھیجا تھا، تا کہ یہ سن کے وہ پریشان نہ ہو۔ جاوید صاحب ہم نے مختلف ٹیسٹ کروائے ہیں MRI اور EEG کچھ خاص پروگریس نہیں بتا رہے. اور گلاسگو کوما سکیل (Glassgow Comma Scale) میں بھی آپ کے بھائی کی کانشس لیول دو سے بھی کم ہے۔ اور جب تک وربل ریسپانس نہیں دیتے ان کے ہوش میں انے کے چانسز بہت کم ہیں۔

میرے بھائی کے بچنے کے چانسز کتنے فیصد ہیں؟ ڈاکٹر صاحب میرا ایک ہی بھائی ہے میرا واحد ہی ساتھی ہے. جاوید نے ہچکیاں لیتے ہوئے سوال کیا تھا جب اس کے دوست اعجاز نے اسے تسلی دینے کی کوشش کی تھی۔

جاوید صاحب کیوں کہ آپ پڑھے لکھے ہیں اور پیچیدگیوں کو خوب جانتے ہیں۔ میں کوئی جھوٹا دلاسہ نہیں دے سکتا آپ کو۔ ہیمیپلیجیا والوں کو واپس اسی حالت میں لانا قدر ناممکن ہوتا ہے۔ اگر وہ ہوش میں بھی آجائیں تو وہ حصہ پیرالائزڈ ہی رہتا ہے۔ اور یہ معذوری فزیوتھراپی سے ہی ٹھیک ہو سکتی ہے۔ جس کے چانسز بھی دو یا تین پرسنٹ سے زیادہ نہیں ہوتے۔ پریشانی یہ نہیں ہے، پریشانی یہ ہے کہ وہ اتنے دن سے ہوش میں نہیں آرہے۔

موٹر رسپونس بھی ٹھیک نہیں ہے۔ اور پین سٹوملائے سے بھی کوئی حرکت نہیں ہو رہی۔ جو کہ پریشان کن بات ہے۔۔۔

ڈاکٹر نے ساری کنڈیشن سامنے رکھ دی تھی۔ بے بسی کو اگر صحیح معنوں میں سمجھا جائے تو وہ جاوید کے چہرے پہ تھی۔ خشک ہونٹ، بارش اور کیچڑ میں لت پت میلے کپڑے، بکھرے بال اور رو رو کے خشک ہونے والی آنکھیں، اس سب کے باوجود بلا کا اعتماد۔۔۔ اپنے گھر والوں کو سنبھالنے کی وجہ سے اس نے اپنے چہرے پر دکھانا چاہی تھی۔

جاوید نے بہت سوچنے کے بعد علی اصغر کو فون کیا تھا اور ان کو حالات سے واقف کرتے ہوئے اسلام آباد آنے کو کہا تھا۔ فراز کے بعد علی اصغر ہی تھا جو اپنی بہن کو سنبھال سکتا تھا۔ اگلے دن علی اصغر آ چکے تھے۔ اور ان کو دیکھنے کے بعد ناصرہ اور جاوید دونوں کا مورال بلند ہوا تھا۔ علی اصغر کا تقوی' بہت ہی اعلی تھا. وہ تاریکی میں بھی مشعل دکھانے کی کوشش کرتے تھے. دعا سے ہر چیز کو ممکن بتاتے اور چہرے پہ کبھی مایوسی نہ لاتے.

علی اصغر کے آنے کے بعد ناصرہ روز دو گھنٹے گھر جاتی اور آرام کرتی۔ شاید وہ اس پہ یقین رکھتی تھی کہ اس کے بعد وہ ہی تھا جو فراز کو کہیں نہیں جانے دیتا۔