آج اسکول کا پہلا دن تھا جب فراز اسکول گیا۔ وہ وعدے کے مطابق سات بجے سے بھی دس منٹ پہلے اسکول پہنچا تھا۔ اسکول میں سناٹا تھا نائب قاصد کے علاوہ اکا دکا طلبا ہی نظر آرہے تھے۔ فراز گھبرایا ہوا تھا اور نہ چاہتے ہوئے بھی لائبریری کی طرف گیا تھا۔ لائبریری اس وقت خالی تھی۔ اس نے ایک کتاب اٹھائی تھی جس کو پڑہنے کی ناکام کوشش کی تھی مگر اس کا دماغ کہیں اور تھا۔ اور وہ بے زار ادھر ادھر دیکھنے لگا تھا۔ ساڑھے سات بجے کے قریب اسے نینا کی آواز سنائی دی تھی۔ اور اس کا دل عجیب ہو رہا تھا۔
اور تھوڑی دیر میں اس نے اپنے طرف آتی ہوئی محسوس کی۔ اور کچھ ہی دیر بات نینا اس کے سامنے تھی۔
نینا کو دیکھتے ہوئے ہی اس نے اپنی دونوں مٹھیوں کو بینچ کے نینا کو سلام کیا تھا۔
اس دن نینا کا اعتماد بھی لڑکھڑایا ہوا تھا۔ اس نے عہد کیا تھا وجہ تو فراز کو عارضی ٹالنا تھا۔
مگر فراز نے وعدہ پورا کیا تھا اور چھٹیوں کے دوران وہ اس کے محلے کے قریب بھی نہیں بھٹکا تھا۔
میری بات ماننے کے لیے بہت شکریہ فراز۔ میرے دل میں آپ کے لیے عزت بڑھ گئی ہے۔ میرا جو خیال آپ کے لیے پہلے تھا بہت منفی تھا اب میں اپ کو ایک ذمیوار انسان سمجھتی ہوں۔۔
نینا کے اس اعتراف نے فراز کے اعتماد کو بڑھایا تھا وہ خوش ہوا تھا۔
بہت شکریہ نینا! مگر اب ہم ایک نہیں ہو سکتے۔ فراز کا دو ٹوک موقف آیا تھا۔ جس بات سے نینا کا دل اچھلنے کو کر رہا تھا وہ بہت خوش ہوئی تھی۔ مگر وجہ پوچھے بغیر نہیں رہ سکتی تھی۔
اب کیا ہو گیا تمہیں نینا نے اپنی خوشی چھپاتے ہوئے اس سے پوچھا تھا!
نینا مسلمان اہل کتاب کے علاوہ کسی اور سے شادی نہیں کر سکتے۔ اور تم اہل کتاب نہیں ہو۔
میں تم سے تعلق نہیں بنا سکتا۔ اور مجھے رانیا، مدہو اور شویتا کا افسوس ہے۔
میں ظالموں میں شمار نہیں ہو سکتا۔ فراز کے جواب نے واقعی نینا کے دل میں اس کے لیے احترام کا بیج بویا تھا۔ اور پہلی بار اس نے فراز کے لیے کشش محسوس کی تھی۔ تمہیں پریشان نہیں کرنا چاہتا۔ فراز کے جواب نے نینا کو مسکرانے پر مجبور کیا تھا۔ اور یہ پہلی بار تھا کہ فراز نے کوئی عقل کا کام کیا تھا جس پہ سب کو فخر ہوتا۔