Chapter

فراز کے سوال

وہ خوش خوش گھر لوٹا تھا اور اپنے وعدے اور عہد کی شروعات اس نے عشاء کی نماز سے کی تھی۔

اس کو مسجد میں داخل ہوتے ہوئے دیکھ کر سب پریشان ہوئے تھے۔

مولوی نصیر نے اس سے پوچھ لیا تھا کہ فراز بیٹا طبیعت تو ٹھیک ہے نا تمہاری؟ جاوید بھی اسے مسجد میں دیکھ کر پریشان ہوا تھا ۔

کتنا عجیب انسان تھا یہ فراز۔۔۔ والدین بچے کو مسجد میں دیکھ کے خوش ہوتے ہیں مگر جاوید سمیت پوری جماعت پریشان تھی۔ فراز مستقل مزاجی کے ساتھ نماز پڑھتا اور مولوی نصیر کے پاس بیٹھ کے قران کا درس لیتا ایسے ہی ایک دن دوپہر کا وقت تھا جب اس نے مولوی نصیر سے ایک سوال کیا تھا۔ اسکول کھلنے میں ابھی پندرہ دن تھے اور فراز بہت خوش تھا کہ وہ نینا سے ملے گا اور ان دونوں کی پریم کہانی شروع ہوگی۔

استاد ہم ہندوؤں سے شادی کر سکتے ہیں؟ مولوی نصیر کو فراز کا مدہ سمجھ آگیا تھا اور اس کی یہ نماز کی پابندی بھی۔۔

نہیں بیٹا ہم صرف مسلمان اور اہل کتاب سے شادی کر سکتے ہیں۔ مولوی صاحب کا جواب کچھ توقف کے بعد آیا۔۔

اور اہل کتاب تو وہ ہوتے ہیں نا جن کے نبی پہ کتاب نازل ہوئی ہو؟ یہ سوال فراز سے آیا تھا۔

ہاں بیٹا! جس امت کے نبی پر کتاب نازل ہوا ہو۔ مولوی صاحب کا جواب مثبت آیا۔۔

تو پھر استاد گیتا رامائن اور گرو گرنتھ بھی تو مذہبی کتابیں ہیں نا اور گرو نانک ان کا نبی ہے پھر آپ کیوں کہہ رہے ہیں کہ ہندوؤں سے ہم شادی نہیں کر سکتے؟

فراز کے ترکی بہ ترکی جواب نے مولوی نصیر کو حیران کر دیا تھا کہ اس بچے کو ہندو دھرم کا اتنا پتا کیسے ہے۔۔

بیٹا! کتاب کے نزول کے ساتھ ان سارے مذاہب میں ایک چیز مشترکہ ہے جن کو ہم اہل کتاب کہتے ہیں اور وہ ہے توحید۔

وہ سارے انبیا جن پر الہامی کتابوں کا نزول ہوا ہو وہ توحید کی تبلیغ کرتے تھے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو اکیلے رب ماننا۔

جب کہ ہندومت ایک سے زیادہ خداؤں میں یقین رکھنے والا دھرم ہے۔

مولوی نصیر نے بہت ہی شائستہ اور نفیس انداز میں فراز کو سمجھانے کی کوشش کی تھی۔

اگر وہ ایک سے زیادہ خداؤں کو مانتے ہیں تو ان کی دکانوں "پہ سب کا مالک ایک ہے کیوں لکھا ہوتا ہے؟

فراز کا یہ سوال مولوی نصیر کو چکرا نکلیے کافی تھا۔

بچے ہندو مت الہامی مذہب نہیں ہے یہ ایک انسان کا فلسفہ ہے اور ہم غیر اہل کتاب کے لوگوں سے ازدواجی زندگی میں منسلک نہیں ہو سکتے مولوی نصیر نے بہت ہی شائستہ لہجے میں فراز کو سمجھانے کی کوشش کی تھی۔

استاد! ہندومت تو سب سے پرانا مذہب ہے تو اس کو ہم کیسے الہامی نہیں کہہ سکتے؟ اور اللہ میاں نے بھی تو فرمایا ہے ہر قوم پر کو نہ کوئی نبی کو بھیجا گیا ہے۔۔ تو آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں؟؟؟ فراز کا سوال مولوی صاحب کو کافی منطقی لگا۔ مولوی نصیر اس حیرت میں تھے کہ یہ بچہ دونوں مذاہب کی مماثلت کو کیسے بیان کر رہا ہے ۔

بیٹا! اگر اس بات کو ہم یہ بھی اخذ کر لیں کہ ان پر کوئی نبی آئے ہوں مگر اگلے نبی کے آنے کے بعد پچھلی شریعت منسوخ ہو جاتی ہیں۔ جیسے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پچھلی ساری شریعتیں منسوخ ہو چکی ہیں۔ اور قران پاک میں فرمایا گیا ہے کہ "ہم نے آپ پر آپ کا دین مکمل کر دیا ہے". تو سمجھیں کہ اب تو کوئی شک کی گنجائش ہی نہیں بچتی۔ مولوی نصیر نے بڑے ہی تکے تلے الفاظ میں فراز کو سمجھانے کی کوشش کی ۔

استاد! بالکل یہ تو حقیقت ہے مگر آپ یہ کیوں نہیں کہہ رہے کہ ہندومت بھی الہامی کتاب ہے؟ فراز ٹس سے مس نہیں ہوا۔

پھر اچانک کسی راہگیر کی مسجد میں آمد ہوئی جو مولوی صاحب سے تعویذ لکھوانے آیا تھا اور اسی طرح موضوع بند ہوا۔ اور وہ راہگیر مولوی صاحب کے لیے فرشتہ ثابت ہوا تھا۔ اور مولوی صاحب نے اس راہگیر کو تب تک مصروف رکھا جب تک فراز مسجد سے اٹھ کر نہیں گیا۔

وہ واقعی عذاب تھا ہمیشہ کی طرح سوال سے سوال بنانے والا اور بات کو اپنے طرز پر پرکھنے والا۔

ان دنوں ہندو برادری بہت ہی بڑی مصیبت میں مبتلا تھی۔ ان کے کاروبار بھتا خوروں کے رحم و کرم پر تھے اور ان کو ایک سے زیادہ گروہوں میں بھتا دینا پڑتا تھا جس کی وجہ سے ان کو بہت ہی کم منافع ملتا۔ اس کے علاوہ ہندو لڑکیوں کا اغوا اور ان کی زبردستی مذہب کی تبدیلی بھی بہت عروج پر تھی۔ جس کی وجہ سے بہت سے ہندو خاندان بھارت منتقل ہو چکے تھے۔ وہ بھی ایک دن تھا جب فراز نے گھر میں موجود بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی میں ایک خبر سنی جس میں بتایا جا رہا تھا کہ تین ہندو لڑکیوں کو گن پوائنٹ پر مذہب تبدیل کروایا گیا تھا۔ اور انہیں مسلمان لڑکوں کے ساتھ بیاہیا گیا تھا۔

ایک بہت بڑا گروہ ان دنوں ایکٹو تھا۔ جن کی سرپرستی ایک پیر کر رہے تھے۔ اس پیر کی بنیادیں اتنی مضبوط تھیں کہ ملک کے قانون ساز ادارے بھی ان کے سامنے گڑ نے گھٹنے ٹیک دیتے تھے۔ ضلع کا ایس ایس پی اور ڈی سی بھی ان کے سامنے پڑی کرسی کی جگہ زمین پر بیٹھ جاتے۔ اور جو افسر ان کے کہنے میں نہ آتا راتوں رات بدلی کیا جاتا۔ وہ اتنے ظالم تھے کہ شام کے وقت م جیپوں پر نکلتے اور فل اسپیڈ میں گاڑی چلاتے ہوئے بازار سے گزرتے اور ہر دن ان کے راستے میں آنے والوں میں سے سینکڑوں لوگ زخمی ہوتے یا جان گنواتے۔ بازار میں موجود دکانوں ہوٹلوں اور ریڑھیوں سے جو چاہتے اٹھا لیتے۔ اور کسی کی ان سے پیسے مانگنے کی جرات نہ ہوتی۔

یہ خبر سنتے ہی فراز کے دل میں ان کے لیے ہمدردی جاگی۔ فراز اپنی کی ہوئی حرکتوں پر سوچنے لگا تھا۔ فراز نینا کو چاہتا تھا یا بچوں کی طرح اس کی طرف کھنچتا تھا مگر مولوی نصیر کی باتیں اور چلنے والی خبروں نے اسے سوچنے پر مجبور کیا تھا۔