اسے یونیورسٹی گئے ابھی چھ ماہ ہی ہوئے تھے اور ان چھ مہینوں میں اس نے بہت سے دوست بنائے تھے جن میں حسن، کبیر اور ساران نمایاں تھے۔ البتہ یونیورسٹی آ کر اس کی شخصیت میں ایک نمایاں فرق آیا تھا، وہ یہ تھا کہ اسے اب کتابوں سے کوفت نہیں ہوتی تھی۔ اور اب وہ ہر چیز کو ذمیواری سے نبھانے لگا تھا۔ یا شاید اسے اپنی والدہ کا احساس پیدا ہو گیا تھا یا اس سنجیدگی کی وجہ قدرت کی طرف سے اس کے اوپر آنے والے طوفان کا پیش خیمہ تھی۔
قائد آعظم یونیورسٹی کی حدود کے اندر ہی گڈو کی چائے ملتی تھی جو کہ لکڑیوں پر تیار ہوتی تھی۔ بہت سے اعلی افسران جو قائد اعظم یونیورسٹی سے پاس آؤٹ ہو چکے تھے وہ بھی گڈو کی چائے پینے آ جاتے۔
گڈو کی چائے کے ساتھ وہاں پر تقریبا ہر کھانے کی چیز ملتی, چکن تکا، بریانی، دال چاول کڑاہی اور کڑی وغیرہ۔ اسی سکوائر میں ایڑیوں کی چھوٹی سی دکان تھی جہاں سے فراز سمیت یونیورسٹی کا تقریبا ہر لڑکا ایڑی خرید کرتا۔
یہ بھی دسمبر کی سرد ترین شام تھی جب فراز گڈو کے پاس بیٹھے ہوئے استاد نصرت فتح علی خان کے گانے تیرے دروازے پہ چلمن نہیں دیکھی جاتی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے چائے کی چسکیوں میں مصروف تھا، جب ساران تین چار دوستوں کے ساتھ اسے ڈھونڈتے ہوئے آن پہنچا۔
"خیر دوزخ میں ملے نہ ملے
شیخ صاحب سے جا تو جھوٹے گی
یہ فیض احمد فیض کا شعر سنتے ہوئے فرخ نے بولا؛
ہمارے فراز بھائی کی گڈو کی چائے اور اس گانے سے کب جان چھوٹے گی؟
اس بات پر سب نے زوردار قہقہہ لگایا تھا جبکہ فراز نے صرف مسکرانے میں ہی عافیت جانی تھی۔۔
دراصل گڈو کے پاس موجود خدمتگار چچا کھٹک کی فراز کے ساتھ بہت اچھی بنتی تھی اور فراز کے آتے ہی یہ گانا چلا دیتا تھا کیونکہ فراز اکثر اسے تحفے دیتا رہتا یا اس کے بچوں کی پڑھائی یا ان کے علاج معالجے کے لیے اکثر کچھ پیسے دے دیتا۔ وہ شاید یونیورسٹی کا واحد زندہ دل لڑکا تھا جسے کسی کو کلاس یا فائننشل پوزیشن دیکھ کے دوست رکھنے کی عادت نہ تھی۔ یونیورسٹی میں مختلف قومیت کے کھینچا تاؤ اور لڑائی جھگڑوں میں ہر قومیت کا گروہ فراز کو اپنے گروہ اور ثقافت کا سمجھتا تھا۔ وہ باہر سے کتنا ہی شریر کیوں نہ ہو مگر اندر سے بہت کومل تھا۔ اس کا دل نومولود بچے کی طرح پاک تھا۔
قہقہے جاری ہی تھے کہ حسن بولا؛ یار میں تو یہاں سے کچھ نہیں کھانے لگا...
یار چلو صدر چلتے ہیں اور تہذیب سے کچھ کھاتے ہیں۔۔ یہ پروپوزل ساران کا تھا اور یوں وہ سات لوگ تین بائیکوں پر راولپنڈی کی طرف روانہ ہو گئے۔ موسم بہت سرد تھا بائیک چلاتے ہوئے ہوا ان کے چہروں اور ہاتھوں کو سن کر رہی تھی۔۔
بائیک کے پہیے اپنے چلتے ساتھ سڑک سے پانی اٹھا رہے تھے۔۔ شاید بارش ہو کے رکی تھی۔
اسلام آباد کا موسم بارش کے بعد بہت خوشگوار ہو جاتا تھا۔ لگتا تھا کہ مارگلہ کی چوٹیاں اور ان پر موجود درخت اظہار تشکر کر رہے ہوں۔ جیسے ان درختوں کا روم روم دھل کے پاک ہو چکا ہو۔ سڑکوں سے پانی کا ملن کسی انکمپوزڈ موسیقی کو جنم دے رہا تھا۔ اسلام اباد کی سڑکیں وسیع اور خوبصورت تو تھی پر ان پہ پڑنے والی بارش موسیکی ہی بنا سکتی تھی، کوئی روگ نہیں۔۔۔
فراز کا کہنا تھا اسلام اباد شہر کافی سبجیکٹو ہے، یہ ہر کسی کے لیے گود ہے؛ اداس لوگوں کے لیے اداسی کے بے شمار موضوع دے دیتا ہے اور خوش باش لوگوں کے لیے خوش باش سا ماحول.
وہ اکثر کہتا رہتا تھا
"Islamabad, a place of fairies "
(اسلام اباد پریوں کا شہر ہے)
اور دوست اسے پاگل کہتے تھے۔ وہ کیسے یہ نہ کہتا وہ جس جگہ سے آیا تھا اسے تو واقعی کسی نے جنت عطا کر دی ہو۔
ایک ایسی جنت جو اس کی جنت کے سارے سکھ چھیننے والی تھی۔۔
وہ سب چالیس منٹ کی بائیک رائڈنگ کے بعد دارالماہی ریسٹورانت پہنچے۔ دارالماہی صدر میں ہاتھی چوک آر اے بازار میں واقع تھا۔ اور یہاں کی مچھلی بہت مشہور اور لذیذ تھی۔ ان سب نے ایک کلو راؤ مچھلی اور دو کلو بونلیس آڈر کی تھی۔ دارالماہی کے کھانے ذائقے دار اور ریٹ کافی مناسب تھے۔
دارالماہی کا مشورہ فراز کا تھا جو بھائی اور بھابھی سے ملنے اکثر راولپنڈی آیا کرتا تھا اس کے بھائی کا گھر بکرا منڈی سے آگے گروٹی سٹاپ والی گلی میں تھا۔ گروٹی سٹاپ کی گلی بہت وسیع تھی اس گلی کے مخالف ایک شادی ہال اور پرنس موٹر سائیکل کا شوروم تھا۔ اس کا بھائی ایک وفاقی ادارے میں ایگزیکٹو آفیسر تھا۔
"Hmm! When it is about taste, every bite deserves a charge"
"ہمم! جب ذائقے کی بات ہو تو ہر نوالا قیمتی ہے
یہ کمپلیمنٹ حسن کا تھا جس نے فراز کو دیکھتے ہوئے بولا کہ یار تو گوروں کا اسلام آباد اور راولپنڈی میں گائیڈ بن جا۔۔ گورے خوش ہو کے تجھے اپنے ساتھ لے جائیں گے اور تجھے گوری بھی دے دیں گے۔۔
جس پر سب نے خوب قہقہے لگائے تھے اور فراز فاتحانہ انداز میں خوش ہوا تھا مگر مذاق اڑنے کے ڈر سے اپنی خوشی چھپائی تھی۔
کھانا کھا کے امریکن سسٹم کے تحت سب نے پولنگ کی تھی اور ہر کسی کو 214 روپے دینے پڑے تھے۔۔
اسٹوڈنٹ لائف کی یہ خوبصورتی تھی کہ سب ایک ایک پائی کا حساب کرتے تھے تاکہ وہ پورا مہینہ گزار سکیں۔
بے شک پیسے کم ہوتے تھے مگر ایک دوسرے کے لیے وقت اور محبت بہت زیادہ تھی۔ یہ ہی تو دراصل زندگی تھی۔ محبت اور اہمیت ضروری ہوتی ہے سانس تو پیڑ پودے بھی لیتے ہیں۔۔
فراز کو چونکہ گھر جانا تھا تو اس نے دوستوں کو الوداع کر کے بائک کی کک ماری اور عباسی ہوٹل پر آ رکا۔ رات کے 12 بج رہے تھے اور اسے پتہ تھا کہ اس کے بھائی بھابھی سو چکے ہوں گے۔
عباسی ہوٹل جی پی او کے تھوڑا دور تھا جہاں سے جی پی او کو دیکھا جا سکتا تھا۔ عباسی کی چائے بہت ہی عمدہ تھی اور ان کا کپ کیک بھی خالص دیسی گھی سے بنا ہوا ہوتا تھا۔ فراز خالی چائے نہیں پیتا تھا وہ ہمیشہ کیک یا بسکٹ کھاتا تھا۔ اس رات پیٹ بھرا ہونے کے باوجود اس نے کپ کیک بھی آرڈر کیا تھا۔ کپ کیک کے ٹکڑے کو جیسے ہی اس نے چائے میں ڈپ کیا تھا وہ چائے کے اندر گر گیا تھا اور فراز کے منہ سے بے ساختہ "اللہ خیر" نکلا تھا..
فراز نے حسب عادت ایک اور چائے اور کیک آرڈر کیا تھا۔
وہ کبھی بھی وہ چائے نہ پیتا یا خانہ نہ کھاتا جس کا نوالہ گرا ہو یا کھانے پینے کی چیز میں کچھ گرا ہو۔
چائے پینے کے بعد اس نے کچھ وقت عباسی ہوٹل کی چھت کو گھورا اور گھورتے گھورتے پتہ نہیں وہ کن سوچوں میں محو ہو گیا۔
بیکگراؤنڈ میں پانی چلنے اور پلیٹوں کے ٹکرانے کی آوازیں آرہی تھیں۔
کچھ دیر وہ یوں خاموش بیٹھا رہا اور اس کی نظر کے سامنے لگے وال کلاک پر پڑی جو کہ ایک بج کر پچیس منٹ کا وقت بتا رہا تھا۔
اس نے بائیک کی چابی اٹھائی اور اٹھ کھڑا ہوا۔ بل ادا کر کے وہ باہر بائیک کی طرف آیا۔
بادل برسنے کو بے تاب تھے۔۔
اس نے بائیک میں لگے وائر لاک کو کھولا ہی تھا کہ غیر ارادی طور پر اس کی نظر سڑک مخالف سمت میں کھڑی سفید کپڑوں میں ملبوس لڑکی پر پڑی۔۔
کچھ وقت اس نے وائر لاک ہاتھ میں پکڑے اس لڑکی کو دیکھا اور پھر وائر لاک سٹرنگ میں لگا کر بائیک پر بیٹھ کر سگریٹ سلگانے لگا۔
اس نے لڑکی کو دیکھنا چھوڑ دیا تھا مگر اس کے لاشعور میں بہت سے سوال جنم لے رہے تھے؛
کون ہے یہ؟
اس وقت اکیلے کیوں ہے؟
لگ بھی شریف رہی ہے؟
فراز نے سب سوالوں کو جھٹک کے گھر جانے کا سوچا اور کک مارنے سے پہلے غیر ارادی طور پر اس کی طرف دیکھا۔ اور اب جو اس نے دیکھ لیا تھا اس کا گھر جانا فی الحال ناممکن تھا۔
وہ سگریٹ کو پھینکتے ہوئے ہنٹر کو انلاک کر کے بغیر کسی خطرے کا تعین کیئے اس کی طرف بھاگا تھا۔۔۔۔