فراز! تم جانتے ہو، ابو کے جانے کے بعد میں نے وہ زندگی جھیلی ہے جی نہیں ہے ۔ ایسی حیات جس کی دعا میں کسی دشمن کے لیے بھی نہ کروں۔ ہر چیز کی طلب رہی مجھے، ہر خوشی جیسے مجھ سے روٹھ گئی ہو۔ جب امّی بسترِ مرگ پر تھیں، میرے سوتیلے باپ نے پانچ کروڑ کے عوض میرا رشتہ مختیارہ سے طے کر دیا۔ امّی کے جاتے ہی میں ان کے رحم و کرم پر آ گئی۔ مجھے یاد نہیں کہ کبھی کوئی دن سچ مچ خوشی کا بھی دیکھا ہو۔ اگر کبھی سوتیلے بہن بھائیوں کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کرتی، تو سوتیلی ماں کی ڈانٹ میرا مقدر بن جاتی۔
یونیورسٹی کے پہلے ہی دن، میں نے اپنی خواہشوں کی ایک فہرست بنائی تھی… یہ کہتے ہوئے اس نے اپنے پرس میں ڈائری سے ایک کاغذ نکالا۔ وہ دونوں دامنِ کوہ پر بیٹھے، اسلام آباد کے جگمگاتے شہر کو بلندی سے دیکھ رہے تھے۔ فراز نے نرمی سے وہ کاغذ اس کے ہاتھ سے لے لیا۔ وہ اس کے کندھے پر سر رکھے، خاموشی سے اس تحریر کو دیکھ رہی تھی جسے فراز کھول رہا تھا۔ اس پر لکھا تھا:
"یہ ضروری نہیں کہ انسان اپنی ہر خواہش پوری کر سکے، مگر یہ پرچی مجھے جینے کی امید دلاتی ہے… اس زندگی میں جہاں ہر چیز مجھ سے میری چاہتیں چھین لینے پر تلی ہوئی ہے۔"
"کنڈ ملیر، بلوچستان میں پاور گلائیڈ کرنا میری پسندیدہ چیزوں میں سے ایک ہے۔ دوسرا، میں CSS کرنا چاہتی ہوں… تاکہ کوئی بھی ابیرہ یہ نہ سوچے کہ وہ بڑے خواب نہیں دیکھ سکتی۔ اور پھر، میں ایک این جی او قائم کرنا چاہتی ہوں جو لڑکیوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے کام کرے۔" فراز خاموشی سے اسے پڑھتا رہا۔ ٹھنڈی ہوا ان کے درمیان سے گزرتی ہوئی جیسے دلوں کو بھی جما رہی تھی۔ وہ آہستہ سے بولی:
"تم جانتے ہو فراز، کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ میں تمہارے قابل نہیں ہوں۔ میں ایک ادھوری سی ہستی ہوں، دکھوں اور صدموں سے بھری ہوئی… اور تم، تم تو سب سے خوش مزاج انسان ہو جو میں نے زندگی میں نہیں دیکھا۔ شاید تم نے مجھے اپنی زندگی میں شامل کر کے غلط فیصلہ کیا ہے… وہ لمحہ بھر کو رکی، پھر دھیمی آواز میں بولی:
"فراز! پلیز مجھ پر ترس مت کھاؤ۔ اگر تم مجھ سے اتنی شدت سے محبت نہیں کرتے جتنی میں کرتی ہوں تو تمہیں مجھے چھوڑ کے جانے کا ہر حق حاصل ہے۔ میں تمہیں اس فیصلے پر ہرگز قصوروار نہیں ٹھہراؤں گی۔ وہ ابھی اور بھی بہت کچھ کہنا چاہتی تھی کہ فراز نے نرمی سے اپنی انگلی اس کے لبوں پر رکھ دی۔
ابیراہ! تم جانتی ہو، میں سمجھتا ہوں کہ تم مجھے میری کسی نیکی کے بدلے میں ملی ہو۔ میں ہمیشہ بکھرا ہوا، مشکل اور اپنے پیاروں کے لیے آزمائش رہا ہوں۔ مگر تم نے مجھے سنوار دیا۔ اب مجھے سمجھ آیا ہے کہ ایک ترتیب والی زندگی کتنی خوبصورت ہوتی ہے۔ تمہیں کیوں لگتا ہے کہ میں نے غلط انتخاب کیا ہے؟ میرے لیے تو تم ہی میری زندگی کی واحد درست چیز ہو۔ تشکر کی شدت اپنے عروج پر تھی… دونوں کی آنکھیں نم تھیں۔ ابیرہ کی آنکھوں سے دو موتی جیسے آنسو گرے، جنہیں فراز نے آہستگی سے پونچھ دیا۔
رات اپنی چادر پھیلا رہی تھی۔ دامنِ کوہ سے اسلام آباد کا پُرسکون منظر اور بھی دلکش ہو گیا تھا۔ اس خاموشی میں ایک عجیب سی کشش تھی۔ نرم، حسین اور دل کو چھو لینے والی۔ مگر ان سب سے زیادہ حسین وہ دونوں تھے۔
وہ اب بھی اس کے کندھے پر سر رکھے ہوئے تھی، اور اس نے اپنا سر اس کے سر سے ٹکا دیا۔ ہاتھوں میں ہاتھ لیے، وہ دونوں شہر کی جگمگاتی روشنیوں کو دیکھ رہے تھے۔
اور پھر وہ دھیرے سے بولی:
"من کرتا ہے کہ اس کے سینے میں دل بن کر رہوں وہ دھڑکنوں کو سنبھالے… اور میں دھڑکتا جاؤں وہ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا، "ظالم… تمہاری باتوں نے تو مجھے پہلے ہی مسحور کر دیا ہے، ابیرہ! آخر کتنی بار تم مجھے اپنا اسیر بناؤ گی؟"
دونوں کی نظریں ایک دوسرے میں یوں گم ہوئیں کہ جیسے اردگرد کی دنیا پھر سے کہیں کھو گئی ہو۔ ٹھنڈی ہوا کے نرم جھونکے اُن کے دلوں میں ایک دوسرے کی چاہت کو اور بھی گہرا کر رہے تھے۔ محبت کی شدت ہر لمحے بڑھتی جا رہی تھی۔
ابیرہ سفید لباس میں ملبوس تھی، سفید موتیوں کی نازک مالا اُس کے سینے پر جگمگا رہی تھی، باریک ڈائل والی سفید گھڑی اُس کی کلائی کی خوبصورتی بڑھا رہی تھی، اور اُس کے جُوڑے میں بندھے بال اُس کی شخصیت کو ایک خاص وقار دے رہے تھے۔ وہ کسی خواب کی تعبیر لگ رہی تھی۔ دوسری جانب فراز سفید شلوار قمیض میں ملبوس تھا، سفید مخملی کھُسّہ اور ڈیجیٹل گھڑی اُس کی وجاہت میں چار چاند لگا رہے تھے۔ دونوں کی سادگی میں ایک عجیب سی شان اور دلکشی تھی۔
یوں محسوس ہوتا تھا جیسے یہ منظر اُن دونوں کی موجودگی سے مکمل ہوا ہو ورنہ دامنِ کوہ کی ساری خوبصورتی بھی اُن کے وقار کا مقابلہ نہ کر سکتی تھی۔ نظریں ملتی تھیں، پھر جھک جاتیں، پھر چپکے سے دوبارہ اُٹھتیں، آنکھوں کا یہ کھیل مسلسل جاری تھا۔ ابیرہ کی حیا فراز کے دل پر مزید وار کر رہی تھی۔ اچانک آسمان پر بادل گرجے اور تیز بارش برسنے لگی۔ چند ہی لمحوں میں زمین پانی سے بھر گئی۔ ابیرہ خوشی سے اُٹھ کھڑی ہوئی اور بارش میں بھیگنے لگی، پانی کے قطروں سے کھیلتی ہوئی۔ فراز بھی مسکراتا ہوا اُس کے ساتھ شامل ہو گیا۔
ہنسی، شرارتیں، بارش کے قطروں کا لمس دامنِ کوہ میں یہ دو محبت کرنے والے جیسے زندگی کو جشن بنا رہے تھے۔ اُنہیں دیکھ کر آس پاس موجود دوسرے جوڑے بھی بارش میں نکل آئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے دس پندرہ جوڑے بارش میں بھیگتے، ہنستے کھیلتے نظر آنے لگے۔
کیا پُرسکون اور دلکش منظر تھا—یوں لگتا تھا جیسے دامنِ کوہ خود کہہ رہا ہو کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں زندگی سانس لیتی ہے… جہاں دل ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔