Chapter

مصالحت

وہ دونوں اس قدر اپنی ہی دنیا میں کھوئے ہوئے تھے کہ انہیں اپنے اردگرد کی کوئی خبر نہ رہی یہاں تک کہ اچانک وہ بیس مسلح افراد کے ایک گروہ کے نرغے میں آ گئے۔ ان کے ساتھ سجن بھی تھا، مختیارہ چوہدری کا چھوٹا بھائی۔

یہ منظر آس پاس گھومتے پھرتے طلبہ کی نظر سے بھی نہ بچ سکا۔ وہ پہلے ہی فراز اور مختیارہ کے درمیان ہونے والی جھڑپ کی پوری کہانی جانتے تھے۔ لمحوں میں خبر پھیل گئی، اور دیکھتے ہی دیکھتے ماڈل ہارٹیکلچر فارم طلبہ کے ہجوم سے بھر گیا کسی کے ہاتھ میں ہاکی تھی تو کسی کے پاس لاٹھیاں۔

سجن مسلسل فراز کو گھورتا رہا، جیسے کسی مناسب لمحے کا انتظار کر رہا ہو۔ تبھی جھاڑیوں کے پیچھے سے ایک وجود نمودار ہوا۔ ساٹھ پینسٹھ برس کی ایک بزرگ خاتون آہستہ آہستہ آگے بڑھیں۔ انہوں نے خاموشی کو توڑتے ہوئے فراز سے مخاطب ہو کر کہا:

"پتر، میں معذرت کرنے آئی ہوں۔ میرے پتر نے تمہارے ساتھ ظلم کیا ہے، اسے معاف کر دو۔ اس کے چار پانچ بچے ہیں، وہ آوارہ ہے ہم سب جانتے ہیں ۔

چند طلبہ فوراً بول اٹھے: "ہم کیا کریں؟ اس نے دو زندگیاں برباد کر دی ہیں! اگر فراز اسے معاف بھی کر دے، ہم اسے نہیں چھوڑیں گے!"

فراز خاموش کھڑا رہا، جیسے اس کے اندر کوئی طوفان برپا ہو مگر باہر سکون طاری ہو۔

تب سجن آگے بڑھا اور بولا: "فراز بھائی، اماں جان ہمارے لیے سب کچھ ہیں۔ آپ کی بھی ماں ہے… ہم جانتے ہیں آپ نے اکیلی ماں کے سائے میں پرورش پائی ہے۔ آئیں، اس دشمنی کو یہیں ختم کر دیتے ہیں۔ ہم وعدہ کرتے ہیں کہ نہ مختیارہ اور نہ ہی کوئی اور آپ کو آئندہ کبھی پریشان کرے گا۔"

اس کی ماں نے بھی آہستہ سے کہا: "مجھے معلوم ہے اس نے جو کیا وہ ناقابلِ معافی ہے… مگر اس کے بچوں کا سوچو۔"

طلبہ پھر بحث کرنے لگے، مگر اس بار فراز نے لب کھولے: "میں اماں جان کی خاطر مختیارہ کو معاف کرتا ہوں۔"

یہ کہتے ہوئے اس نے اشارہ مختیارہ کی ماں کی طرف کیا۔ طلبہ نے دوبارہ احتجاج کرنا چاہا مگر فراز نے انہیں خاموش رہنے کی درخواست کی۔

چوہدری خاندان وہاں سے رخصت ہو گیا، جبکہ طلبہ اور ابیرہ دونوں اس فیصلے پر خفا تھے کہ فراز نے اتنی آسانی سے نرمی کیوں دکھائی۔

ابیرہ نے جانے کی اجازت چاہی تو فراز نے کہا کہ وہ اسے خود چھوڑے گا۔ گاڑی میں بیٹھ کر اس نے ڈرائیور کو آبپارہ جانے کا کہا، مگر ابیرہ نے فوراً ٹوکا: "کومسیٹس گرلز ہاسٹل۔"

فراز نے چونک کر اس کی طرف دیکھا: "کومسیٹس؟ کیوں؟"

تب ابیرہ نے سب کچھ بتا دیا—کہ کیسے اس نے فراز کا ساتھ دیا، اور اس کے نتیجے میں اس کا اپنے ہی گھر والوں سے ٹکراؤ ہو گیا۔

راستے بھر دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے رہے—چاہت بھی تھی، جھجک بھی۔ نظریں ملتی تھیں، پھر جھک جاتی تھیں۔ یہ خاموش سی آنکھ مچولی اس وقت تک جاری رہی جب تک وہ ہاسٹل کے باہر نہ پہنچ گئے۔

ڈرائیور انہیں تنہا چھوڑنے کے لیے گاڑی سے اتر گیا۔ فراز نے آہستہ سے جھک کر ابیرہ کی پیشانی چومی اور کہا: "میں ہمیشہ تمہارے ساتھ رہوں گا… چاہے کوئی بھی تمہارے خلاف ہو۔"

ابیرہ کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ وہ بولی: "اگر تم نہ ہوتے… تو شاید میں زندہ ہی نہ رہتی۔"

اس نے فراز کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور آہستہ آہستہ رخصت ہو گئی۔

اگلے دن فراز نے سیشن جج کے سامنے مختیارہ کے حق میں معافی نامہ جمع کروا دیا۔ وہاں مختیارہ کا ایم این اے بھائی، سجن اور ان کی والدہ موجود تھیں، جبکہ فراز کے ساتھ اس کا خاندان اور ساتھی بھی تھے۔

مقدمہ ختم ہونے کے بعد جب وہ باہر نکلے تو مختیارہ کا خاندان پہلے سے منتظر تھا۔

چوہدری منیر نے بانہیں پھیلا کر فراز کو گلے لگانا چاہا، مگر فراز نے فاصلہ برقرار رکھا۔ وہ خود آگے بڑھے اور اسے گلے لگا کر بولے: "آج سے میرے تین بھائی ہیں۔ کبھی بھی ضرورت ہو، میں تمہارے لیے حاضر ہوں۔"

سجن بھی آگے آیا: "فراز بھائی، جو کچھ آپ کے ساتھ ہوا وہ ناقابلِ برداشت ہے… ہم آپ اور آپ کے خاندان سے معذرت خواہ ہیں۔ اب ہم ہمیشہ آپ کے ساتھ ہیں۔"

آخر میں مختیارہ آیا—شرمندہ، نظریں جھکی ہوئی، ہاتھ جوڑے۔ "فراز بھائی… میں اس قدر شرمندہ ہوں کہ کچھ کہہ نہیں سکتا۔ میں اپنے کیے کی سزا کا مستحق ہوں… شاید موت بھی کم ہے۔ مجھے معاف کر کے آپ نے جو کیا، اس کا بدلہ میں کبھی نہیں چکا سکتا۔ میں طاقت کے نشے میں اندھا ہو گیا تھا…"

یہ کہتے ہوئے اس نے فراز کو گلے لگا لیا۔ فراز خاموش رہا… اس نے کچھ نہ کہا۔

اس کے بعد سب اپنے اپنے راستے چل پڑے۔

فراز اپنے خاندان اور ساتھیوں کے ساتھ عدالت کے باہر کینٹین میں چائے پینے جا بیٹھا۔ ساتھیوں نے بحث چھیڑ دی: "مختیارہ اور اس کے خاندان نے یہ سب صرف عدالت سے بچنے کے لیے کیا ہے۔ ہمیں ڈر ہے کہ وہ دوبارہ نقصان پہنچا سکتے ہیں۔"

تب علی اصغر نے سنجیدگی سے کہا: "جب صحابہ کرامؓ نے رسولِ پاک ﷺ سے صلح حدیبیہ پر اختلاف کیا تھا اور اسے نقصان سمجھا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا تھا, تم وہ نہیں جانتے جو اللہ جانتا ہے۔ اور نتیجہ یہ نکلا کہ وہی صلح ‘فتحِ مبین’ قرار پائی۔"

وہ کچھ لمحے رکے، پھر نرمی سے بولے: "اکثر ہم اللہ کی حکمت کو فوراً نہیں سمجھ پاتے… مگر یقین رکھو، اللہ صلح اور بھلائی پر ہی راضی ہوتا ہے۔"