دو ہفتوں کے بعد فراز نے دوبارہ یونیورسٹی کا رخ کیا۔ گھر والوں نے بہت روکا اور کہا ابھی مکمل صحتیابی ضروری ہے، پڑھائی بعد میں بھی ہو سکتی ہے مگر فراز نے نرمی سے معذرت کر لی۔ اس کے مطابق اس کی تعلیم پہلے ہی خاصی متاثر ہو چکی تھی۔ البتہ ایک شرط سختی سے عائد کر دی گئی کہ وہ نہ تو پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرے گا اور نہ ہی یونیورسٹی پوائنٹ۔ چنانچہ ڈرائیور ہی اسے روز یونیورسٹی چھوڑنے لگا۔
یونیورسٹی پہنچا تو دوستوں اور اساتذہ نے اسے گرمجوشی سے خوش آمدید کہا۔ مگر حادثے کے اثرات چھپائے نہ چھپتے تھے۔ چلتے ہوئے اس کی ہلکی سی لنگڑاہٹ، ہاتھوں پر بندھی پٹیاں، اور پیشانی پر چپکا ہوا سنّی پلاسٹر… یہ سب اس کہانی کے نشان تھے جو اس کے جسم پر ہمیشہ کے لیے نقش ہو چکے تھے۔ وہ زخم… جو اسے *اُس* سے ملے تھے۔
زندگی بھی عجیب ہے جسے آپ سب سے زیادہ چاہتے ہوں، اس کی ایک معمولی سی توجہ بھی آپ کے لیے نعمت بن جاتی ہے… اور جس سے دل اُچاٹ ہو، اس کے دیے ہوئے پھول بھی کانٹوں کی طرح چبھتے ہیں۔
یورپین ہسٹری کی دوسری کلاس شروع ہوئی تو فراز پوری توجہ سے نوٹس لے رہا تھا کہ اچانک اس کی نظر دروازے کی طرف اٹھ گئی جیسے کسی انجانی کشش نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا ہو۔
اور پھر… وہ تھی۔
**ابیرہ۔**
آف وائٹ لباس میں ملبوس، شفان کا ہلکا سا دوپٹہ، کلائیوں میں سفید چوڑیاں، سلیقے سے بندھے بال، گہرے سرخ ہونٹ، اور پیروں میں سیاہ ویجز… وہ بے حد دلکش لگ رہی تھی۔ اتنی کہ فراز کا دل ایک لمحے کو رک سا گیا۔ اس کے لیے وقت جیسے تھم گیا، باقی سب کچھ دھندلا گیا۔
اس کے لبوں پر بے اختیار ایک شعر آیا، جو وہ دھیرے سے دہراتا ہوا اس کی طرف بڑھا:
تمہیں دیکھا پھر اسے نہیں دیکھا چاند کہتا ہی رہا چاند ہوں میں
ابیرہ نے اس کی طرف دیکھا، ایک ہلکی سی مسکراہٹ لبوں پر آئی… اور پھر شرم سے نظریں جھک گئیں۔
فراز ابھی تک اسی کیفیت میں تھا کہ ابیرہ کی آواز نے اسے چونکا دیا، "آپ بس دیکھتے ہی رہیں گے یا چائے بھی پلائیں گے؟"
وہ فوراً سنبھلا، مسکرا کر معذرت کی، اور اسے اپنے پسندیدہ مقام "گڈو کی چائے"—لے گیا۔
سیڑھیاں اترتے ہوئے فراز کو مشکل پیش آ رہی تھی۔ اس کی لنگڑاہٹ نمایاں تھی۔ ابیرہ نے بنا کچھ کہے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔ فراز نے وہ ہاتھ تھام لیا۔
اس لمحے میں جیسے وقت رک گیا۔
ابیرہ کو محسوس ہوا جیسے اس کے ہاتھ میں پوری دنیا سمٹ آئی ہو… اور فراز کو لگا جیسے زندگی نے اسے دوبارہ اپنی آغوش میں لے لیا ہو۔ وہ جذبہ کیا تھا؟ محبت؟ سکون؟ یا کچھ اور؟ دونوں اس کا نام نہ جان سکے، مگر یہ ضرور جانتے تھے کہ وہ لمحہ بے حد خوبصورت تھا۔
وہ "گڈو کی چائے" پہنچے تو چاچا خٹک نے حسبِ معمول اس کا پسندیدہ گانا چلا دیا: "تیرے دروازے پہ چلمن نہیں دیکھی جاتی…"
چاچا خٹک مسکراتے ہوئے آگے بڑھے، "بیٹا، اللہ تمہیں جلد صحت دے… اور تمہارے دشمنوں کو نیست و نابود کرے!"
فراز نے شکریہ ادا کیا اور گڑ والی چائے کے ساتھ نان خطائی کا آرڈر دیا۔
کلاس کا وقت ہونے کی وجہ سے کینٹین آدھی خالی تھی، اس لیے ماحول پرسکون تھا اور بات چیت میں آسانی تھی۔
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد فراز نے پوچھا، "آپ خیریت سے آئیں؟"
ابیرہ نے بھنویں اٹھائیں اور مسکرا کر کہا، "کیا میں بغیر کسی وجہ کے نہیں آ سکتی؟"
فراز تھوڑا سا گھبرا گیا، "نہیں… میرا مطلب وہ نہیں تھا۔"
اس کی معصومیت پر ابیرہ ہنس دی، پھر نرم لہجے میں بولی، "میں آپ کا شکریہ ادا کرنے آئی ہوں… جس طرح آپ نے مجھے بچایا، میری حفاظت کی… میں اسے الفاظ میں بیان نہیں کر سکتی۔"
فراز نے سنجیدگی سے جواب دیا، "اس میں شکریے کی کوئی بات نہیں۔ یہ تو ہر انسان کا فرض ہونا چاہیے کہ وہ ضرورت کے وقت کسی کے ساتھ کھڑا ہو۔"
دونوں ایک دوسرے کو دیکھنے لگے…
پھر نظریں جھک گئیں۔
خاموشی چھا گئی۔
پھر دوبارہ نظریں ملیں، ہلکی سی مسکراہٹ آئی… اور پھر نظریں جھک گئیں۔
یہ سلسلہ جیسے تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔
آخرکار دونوں ایک ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے اور کینٹین سے باہر نکل آئے۔ قدم انہیں خود بخود ماڈل ہارٹیکلچر فارم کی طرف لے گئے، جہاں سرسبز درخت، مہکتے پھول اور نرم ہوا ایک الگ ہی دنیا بسائے ہوئے تھے۔ کچھ جوڑے بینچوں پر بیٹھے تھے، اپنے اپنے لمحوں میں گم۔
فراز اور ابیرہ بھی خاموشی سے چلتے رہے تقریباً آدھا کلومیٹر… بغیر کچھ کہے۔
پھر اچانک وہ رک گئے۔
دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
فراز نے آہستگی سے اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیے۔
نظریں ملیں… مسکراہٹ ابھری… پھر جھک گئیں۔
اور پھر
ایک لمس۔
پہلے ہلکا سا گلے ملنا…
پھر آہستہ آہستہ وہ گرفت مضبوط ہوتی گئی۔
ابیرہ نے شرماتے ہوئے اپنا چہرہ فراز کے کندھے میں چھپا لیا، مگر اس کے بازو پہلے سے زیادہ مضبوطی سے لپٹ گئے۔
یوں لگا جیسے زندگی نے دوبارہ سانس لے لی ہو۔
پھول اپنی خوشبو ان پر نچھاور کر رہے تھے… ہوا اور بادل بھی جیسے ان کے احساسات کی ترجمانی کر رہے ہوں۔
دو جسم…
مگر ایک روح۔