فراز کی صحتیابی توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے ہو رہی تھی۔ دن بہ دن اس کے تمام طبی معائنے معمول پر آنے لگے تھے اور ڈاکٹروں کے چہروں پر چھائی ہوئی تشویش آہستہ آہستہ اطمینان میں بدل رہی تھی۔
تاہم آخری میڈیکل بورڈ کے اجلاس میں ڈاکٹر جسکانی نے قدرے سنجیدہ لہجے میں ایک احتیاطی بات کہی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ فراز کو جو شدید چوٹیں آئی تھیں، ممکن ہے مستقبل میں ان کے کچھ اثرات ظاہر ہوں۔
دوسرے ڈاکٹروں نے اس رائے سے مکمل اتفاق نہیں کیا۔ ان کا خیال تھا کہ صحتیابی کے دوران اس طرح کی علامات معمول کی بات ہوتی ہیں اور چونکہ تمام ٹیسٹ تیزی سے بہتر ہو رہے ہیں، اس لیے گھبرانے کی کوئی وجہ نہیں۔
یوں گھر والوں کے دل میں امید خوف پر غالب رہی۔
جس دن فراز کو ہسپتال سے ڈسچارج ہونا تھا، اسی صبح ابیرہ ہاسٹل سے ہسپتال جانے کی تیاری کر رہی تھی۔ وہ کھڑکی کے پاس کھڑی اپنی دوپٹہ درست کر رہی تھی کہ اچانک اس کی نظر نیچے صحن میں پڑی۔
اس کا دل ایک لمحے کو رک سا گیا۔
ہاسٹل کے دروازے کے قریب مختیارہ کا چھوٹا بھائی سجن چوہدری بےچینی سے چکر لگا رہا تھا۔
ابیرہ کے چہرے پر فکر کی ایک ہلکی سی پرچھائی پھیل گئی۔
وہ جانتی تھی کہ ذرا سی بات بھی کسی ناخوشگوار منظر کو جنم دے سکتی ہے۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ کوئی مسئلہ پیدا ہو۔ چنانچہ اس نے آہستہ سے کھڑکی سے ہٹ کر فیصلہ کیا کہ آج ہسپتال نہیں جائے گی۔
اس نے خود کو تسلی دی۔
"میں اس کے گھر جا کر مل لوں گی۔"
ویسے بھی قائد آعظم یونیورسٹی کے اس کے کئی دوست فراز کی صحت یابی کے بعد اس کے گھر جانے کا منصوبہ بنا چکے تھے۔
ادھر ہسپتال کے کمرے میں ایک عجیب سی خوشی کی فضا تھی۔
جاوید اور علی اصغر کاغذی کارروائی مکمل کر کے واپس آ چکے تھے اور عملہ ڈسچارج سرٹیفکیٹ تیار کر رہا تھا۔
سب لوگ خوش تھے۔
سب مطمئن تھے کہ فراز اب بہتر ہے۔ لیکن کسی نے فراض کی آنکھوں کو نہیں دیکھا۔ وہ دروازے پر جمی ہوئی تھیں۔
وہ کسی کا انتظار کر رہا تھا۔
اس شخص کا جس نے اس کی جان بچائی تھی۔ اس کا جس نے اس کے ہاتھ پر سر رکھ کر اپنے دل کی باتیں کی تھیں۔ اس کا جو بنا جھجک اپنے احساسات اس کے سامنے رکھ دیتی تھی۔
لیکن آج…
وہ یہاں نہیں تھی۔
لوگ کہتے ہیں کہ جب انسان کسی چیز کو سچے دل سے چاہے تو پوری کائنات اسے حاصل کروانے میں مدد دیتی ہے۔ فراز دل ہی دل میں سوچ رہا تھا:
"پھر ایسا کیوں ہے کہ جب میں کسی کو اپنے پاس چاہتا ہوں تو ساری طاقتیں ہمیں جدا کرنے لگتی ہیں؟"
یہ سوچتے ہوئے اس کی آنکھوں سے آنسوئوں کی ایک لڑی جاری ہوئی۔
ادھر ہاسٹل کے کمرے میں بیٹھی ابیرہ بھی اپنے خیالوں میں گم تھی۔ اس کے دل میں بھی وہی بےچینی تھی۔
"میں اس انسان کے ساتھ کیوں نہیں رہ سکتی جس نے اس وقت میرا ساتھ دیا جب کوئی بھی میرے ساتھ نہیں تھا؟"
"کیوں قسمت میرے اور میرے مسیحا کے درمیان رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے؟" وہ باہر سے خاموش تھی۔ مگر اندر ایک طوفان برپا تھا۔ دونوں طرف درد یکساں تھا۔ وہ خود بھی نہیں جانتے تھے کہ ان کے دلوں میں کون سا احساس جنم لے رہا ہے۔
کیا یہ محبت تھی؟
شاید۔
مگر عام طور پر محبت تب شروع ہوتی ہے جب لوگ ایک دوسرے کو بہترین حالت میں دیکھتے ہیں خوبصورت، پُراعتماد اور مکمل۔ مگر یہاں کہانی مختلف تھی۔ ایک طرف ایک زخمی انسان تھا جو زندگی کے لیے جدوجہد کر رہا تھا۔ اور دوسری طرف ایک ایسی لڑکی تھی جو زندگی کی مشکلات سے بھاگتی ہوئی یہاں تک پہنچی تھی، جسے دنیا آسانی سے غلط سمجھ سکتی تھی۔ لیکن ان کے دلوں کی شدت کسی نامعلوم مصنف کے ان الفاظ کی یاد دلا رہی تھی:
محبت یہ نہیں کہ آپ انہیں یاد کریں اور انہیں پتہ بھی نہ چلے محبت تو یہ ہے کہ آپ یہاں ان کا نام لیں اور وہاں ان پر قیامت گزر جائے
اور یہی ہو رہا تھا۔ فراز دروازے کو دیکھ رہا تھا۔ مگر اس انتظار کی شدت کہیں نہ کہیں ابیرہ کے دل تک پہنچ رہی تھی۔
آخرکار فراز کو گاڑی میں بٹھا کر گھر لے جایا گیا۔ ادھر ابیرہ کے سر میں درد اس قدر بڑھ چکا تھا کہ وہ مزید سوچنے کی طاقت کھو بیٹھی۔ اس نے آنکھیں بند کیں اور ایسی گہری نیند سو گئی جیسی وہ پہلے کبھی نہیں سوئی تھی۔
اگلے دن دوستوں نے فیصلہ کیا کہ سب مل کر فراز کے گھر جا کر اس کی خیریت دریافت کریں گے۔ ابیرہ نے آہستہ سے مہرو سے کہا کہ اسے بھی اپنے ساتھ لے چلے۔ شام چھ بجے کے قریب سب فراض کے گھر پہنچ گئے۔
فراز بستر پر تکیوں کے سہارے بیٹھا تھا اور ایک ملازم اس کی دیکھ بھال میں مصروف تھا۔
دوست ایک ایک کر کے کمرے میں داخل ہوئے۔ کسی نے پھول دیے، کسی نے پھل پیش کیے، سب نے اس سے مصافحہ کیا اور اس کی صحت یابی پر خوشی کا اظہار کیا۔ فراز، اس کا بھائی اور عارفہ سب کا شکریہ ادا کر رہے تھے۔
ابیرہ سب کے پیچھے کھڑی تھی۔
خاموش۔
کچھ ڈری ہوئی۔
وہ مہرو اور عمارہ کے پیچھے چھپ سی گئی تھی۔
مگر فراز بار بار دروازے کی طرف دیکھ رہا تھا، جیسے اسے پہلے ہی احساس ہو کہ وہ آ چکی ہے۔ وہ اٹھنے لگا تو اس کے دوست ساران نے اسے روک لیا۔
"بیٹھے رہو یار۔"
اور پھر
وہ سامنے آ گئی۔
کمرے کی ساری آوازیں جیسے مدھم پڑ گئیں۔
دوستوں کی باتیں، ہنسی، شور سب کچھ پس منظر میں چلا گیا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے اس پورے کمرے پر ابیرہ کی موجودگی چھا گئی ہو۔
اس کے کھلے بال کندھوں پر بکھرے ہوئے تھے، ہونٹوں پر ہلکی سی لپسٹک تھی۔ اس نے گہرے نیلے رنگ کا لباس پہن رکھا تھا اور کلائی میں ڈیجیٹل گھڑی۔
اس کے وجود سے وہی Memories پرفیوم کی خوشبو آ رہی تھی جو ہسپتال میں فراز کے سانسوں میں بسی ہوئی تھی۔
اس لمحے فراز کے لیے کوئی اور اہم نہیں تھا۔
وہ ابیرہ تھی۔
اس کے مسکرانے کی وجہ۔
وہ آہستہ سے آگے بڑھی اور پھولوں کا گلدستہ فراز کی طرف بڑھایا۔
اس کے چہرے پر جھجک اور خوشی دونوں ساتھ موجود تھے۔
فراز نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
ان کی نظریں ملیں۔
پھر شرماتے ہوئے اس نے نظریں جھکا لیں۔
وہ مسکرائی۔
فراز مسکرایا۔
دل مل گئے۔
زندگی نے ایک نئی سانس لی۔
اور سب کچھ ایک خوبصورت دھن کی طرح ہم آہنگ لگنے لگا۔
عارفہ نے یہ سب دیکھ لیا تھا۔
اور عارفہ کو فراز کی آنکھیں پڑھنا آتا تھا۔
وہ مسکراتی ہوئی ابیرہ کو فراز کے پاس بٹھا دیتی ہے۔
ابیرہ آہستہ سے بولی:
"کیسے ہیں میرے آئرن مین؟"
فراز مسکرایا۔
"ٹھیک ہوں۔"
ابیرہ نے ہلکی سی شکایت کی۔
"آپ ہمیشہ مسئلے پیدا کرتے ہیں۔"
فراز ہنس دیا۔
"اگر میں مسئلے نہ پیدا کرتا… تو ہم یہاں کیسے پہنچتے؟"
عارفہ نے کھنکار کر کہا:
"ہمم… میں سن رہی ہوں۔"
دونوں ایک دم شرما گئے۔
جیسے ان کی چوری پکڑی گئی ہو۔
یہ ہمیشہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟
جب آپ اپنے محبوب کے ساتھ ہوتے ہیں تو وقت پر لگا کر اڑ جاتا ہے۔
اور جب غم میں ہوں تو ہر لمحہ رینگتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
کیوں دیوار پر لگی گھڑی ہماری زندگی کے سب فیصلے کرتی ہے؟
ہاسٹل کا وقت، دفتر کا وقت، کلاس کا وقت۔
دونوں یہی سوچ رہے تھے۔
محبوب کے ساتھ گزارا ہوا وقت ہمیشہ کم محسوس ہوتا ہے… چاہے وہ ہزار برس ہی کیوں نہ ہو۔
چائے کے بعد سب کو واپسی کی اجازت لینا پڑی کیونکہ ہاسٹل کا کرفیو قریب تھا۔
سب نے فراز سے ہاتھ ملایا۔
آخر میں ابیرہ کھڑی ہوئی۔
اس نے نرمی سے پوچھا:
"کیا میں جا سکتی ہوں؟"
فراز کا دل جیسے ڈوب گیا۔
اس کی آنکھیں کہہ رہی تھیں:
"اتنی جلدی؟"
اسی لمحے عارفہ پیچھے سے مسکراتے ہوئے بولی:
"ابھی نہ جاؤ چھوڑ کر… کہ دل ابھی بھرا نہیں۔"
دونوں پھر شرما گئے۔
ابیرہ نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اجازت لی۔
اور چلی گئی۔
رات گیارہ بجے کمرے کی بتیاں بجھا دی گئیں۔ ملازم صوفے پر بیٹھ گیا۔ مگر فراز کی نیند کوسوں دور تھی۔ ساری ملاقات اس کے ذہن میں فلم کی طرح چل رہی تھی۔
اس کی مسکراہٹ۔
اس کی آنکھیں۔
اس کی آواز۔
اور عارفہ کے وہ الفاظ بار بار اس کے ذہن میں گونج رہے تھے:
"ابھی نہ جاؤ چھوڑ کر… کہ دل ابھی بھرا نہیں۔"
پھر آہستہ آہستہ ساحر لدھیانوی کی لکھی ہوئی غزل کے اشعار اس کے خیالوں میں گردش کرنے لگے۔
ابھی ابھی تو آئے ہو بہار بن کے چھائے ہو ہوا ذرا مہک تو لے نظر ذرا بہک تو لے
یہ شام ڈھل تو لے ذرا یہ دل سنبھل تو لے ذرا میں تھوڑی دیر جی تو لوں نشے کے گھونٹ پی تو لوں
ابھی تو کچھ کہا نہیں ابھی تو کچھ سنا نہیں۔
انہی خیالوں کے ساتھ فراض آہستہ آہستہ نیند کی وادیوں میں اتر گیا۔