وہ اب باقاعدگی سے ہسپتال آنے لگی تھی، مگر گھر والوں کو بتائے بغیر۔ چونکہ وہ روزانہ ٹیک سینٹر (TECH Centre) جایا کرتی تھی، اس لیے اس کے لیے وہاں سے ہسپتال کا رخ کرنا آسان تھا۔ وہ خاموشی سے سی سی یو میں داخل ہوتی، فراز کے پاس بیٹھ جاتی اور اس سے ایسے باتیں کرتی جیسے وہ سب کچھ سن رہا ہو۔
وہ اسے اپنی زندگی کے قصے سناتی، اپنے گزرے ہوئے لمحے، اور وہ حادثات جو اچانک اس کی زندگی میں طوفان بن کر آئے تھے۔
یوں دو ہفتے گزر گئے۔
وہ روز آتی، اس سے باتیں کرتی، امید کرتی کہ شاید وہ کچھ جواب دے۔ مگر وہ اسے اس طرح نہیں جگا سکی جیسے پہلی ملاقات میں ہوا تھا۔
ایک دن وہ پھر آئی… مگر اس بار اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
“میں نے تم سے کیوں کہا تھا کہ مجھے چھوڑ آؤ؟ وہ سسکیوں کے درمیان بولی۔
“یہ سب کیوں ہوا؟ تم نے مجھے چھوڑنے کی پیشکش کیوں کی؟ میں مختیارہ سے بھاگی کیوں؟ اگر میں وہاں رک جاتی… اپنی تقدیر کو قبول کر لیتی… تو یہ سب کبھی نہ ہوتا۔” وہ بار بار یہی جملے دہرا رہی تھی۔
اس کی آواز روتے ہوئے کانپ رہی تھی۔ پورا سی سی یو کا کمرہ جیسے غم سے بھر گیا تھا۔ حتیٰ کہ دیواروں سے بھی دکھ ٹپکتا محسوس ہو رہا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے وہاں موجود ہر چیز سوگ میں ڈوبی ہوئی ہو۔
انجانے میں اس کا سر دوبارہ فراز کے ہاتھ پر آ ٹکا تھا۔
اسی لمحے عارفہ کمرے میں داخل ہوئی۔
اس نے ابیرہ کو فراز کے ہاتھ پر جھکا دیکھا اور وہ سب سن لیا جو وہ کہہ رہی تھی۔
“تو یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے!” عارفہ چیخی۔
وہ تیزی سے اس کے پاس آئی۔
“تم نے یہ سب کیا ہے اس کے ساتھ! میرا بھائی اس حالت میں تمہاری وجہ سے ہے۔ اب بتاؤ، وہ لوگ کون تھے؟ کس نے یہ سب کیا میرے بھائی کے ساتھ؟”
وہ سوال پر سوال کیے جا رہی تھی۔ مگر ابیرہ خاموش رہی۔ وہ جانتی تھی کہ عارفہ کے دل میں کتنی تکلیف ہے۔ عارفہ نے اس کے بازو پکڑ کر اسے زور زور سے جھنجھوڑا، مگر ابیرا پھر بھی خاموش رہی اچانک ایک زور دار آواز آئی۔ کوئی آلہ زمین پر گرا تھا۔ دونوں نے فوراً فراز کی طرف دیکھا۔
ہاں، یہ فراز ہی تھا۔ اس کا ہاتھ آلات والی میز کی طرف بڑھا ہوا تھا۔ شاید وہ کچھ بتانے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ دونوں فوراً اس کے قریب آئیں۔
عارفہ جھک کر اس کے ماتھے کو چومنے لگی۔ مگر اس سے پہلے کہ وہ اسے چومتی، اسے فراز کی مدھم سی آواز سنائی دی۔
“اس سے… لڑو نہیں… اس کا خیال رکھنا۔” آواز بہت کمزور تھی، مگر الفاظ واضح تھے۔
ابیرہ یہ الفاظ نہ سن سکی، مگر اس نے دیکھا کہ فراز نے کچھ کہا ہے۔
اس کے دل میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ عارفہ بھی خوشی سے بھر گئی۔ کئی دنوں بعد فراز نے کچھ کہا تھا۔ وہ سوچ رہی تھی کہ جب گھر والوں کو یہ خبر ملے گی تو وہ بھی بہت خوش ہوں گے۔
ابیرہ سی سی یو سے باہر آئی۔ اس نے اپنی آنکھوں سے آنسو پونچھے۔ مگر اس بار یہ آنسو غم کے نہیں تھے۔ یہ خوشی کے آنسو تھے۔
وہ ہسپتال کے دروازے کی طرف بڑھ رہی تھی کہ اچانک پیچھے سے آواز آئی۔
“سنو!”
یہ عارفہ تھی۔ ابیرہ رک گئی اور اس کے قریب آنے کا انتظار کرنے لگی۔
عارفہ نے آ کر کہا:
“وہ موت کے بستر پر پڑا ہے… اور پھر بھی مجھ سے کہہ رہا ہے کہ تمہارا خیال رکھوں۔ تم کون ہو؟ تم دونوں ایک دوسرے کو کیسے جانتے ہو؟” اس بار اس کی آواز نرم تھی۔
ابیرہ نے گہری سانس لی۔
“میرا نام ابیرا ظفر ہے۔ میں مظفر آباد، کشمیر سے ہوں۔ چند ہفتے پہلے فراز نے میری جان بچائی تھی۔ وہ آج اس حالت میں میری وجہ سے ہے۔” وہ چند لمحے خاموش رہی، پھر بولی۔
“میں اس سے زیادہ کچھ ابھی نہیں بتا سکتی۔ جب تک فراز ٹھیک نہیں ہو جاتا… اور وہ خود فیصلہ نہیں کرتا کہ مجھے کیا کرنا چاہیے۔” یہ کہہ کر وہ ہسپتال سے باہر نکل گئی۔اس کے دل میں امید بھی تھی اور احساسِ جرم بھی۔
ہسپتال کے باہر حالات اب بھی خراب تھے۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپیں ہو رہی تھیں۔ سڑکوں پر پتھر، اینٹیں، درختوں کی ٹوٹی شاخیں اور آنسو گیس کا دھواں پھیلا ہوا تھا۔ طلبہ یونین نے حکومت کو واضح وارننگ دی تھی کہ چوبیس گھنٹوں کے اندر مجرموں کو گرفتار کیا جائے، ورنہ احتجاج ریڈ زون تک پھیلا دیا جائے گا۔
ابیرہ رات نو بجے کے قریب گھر پہنچی۔ آج اس کے چہرے پر ایک عجیب سی چمک تھی۔ جو اس کی نانی نے فوراً محسوس کر لیا۔
آخر بزرگوں کو بچوں کے چہرے کے تاثرات اتنی جلدی کیسے سمجھ آ جاتے ہیں؟
“ماشاءاللہ! آج تمہارا چہرہ بہت روشن لگ رہا ہے،” نانی نے مسکراتے ہوئے کہا۔ “اللہ کرے یہ روشنی ہمیشہ قائم رہے۔”
ابیرہ وہ لڑکی تھی جو کبھی باتیں چھپا نہیں سکتی تھی، نہ ہی جھوٹ بول سکتی تھی۔ مگر تین ہفتوں سے وہ گھر والوں کو بتائے بغیر ہسپتال جا رہی تھی۔ آخرکار اس نے کہہ دیا۔
“نانو… میں ان تین ہفتوں سے سینٹر نہیں جا رہی تھی۔ میں ہسپتال جا رہی تھی… فراز کو دیکھنے۔”
اس نے انہیں سب کچھ بتایا فراز کی حالت، اس کے ردعمل، ڈاکٹر کی نصیحت کہ اسے روز آنا چاہیے، اور آج فراز کے بولنے کی خبر۔ اس بات نے اس کے دل سے بہت سا بوجھ ہٹا دیا تھا۔
نانی یہ سن کر خوش ہوئیں، مگر وہ یہ پوچھنے سے خود کو روک نہ سکیں کہ مجرموں کے خلاف رپورٹ تو نہیں کی جا رہی نا!
ابیرہ نے بتایا کہ وہ ضرور بتائے گی، مگر ڈاکٹر حرا نے کہا ہے کہ ابھی ایسا کرنا فراز اور اس کے خاندان کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔
اسی دوران ماموں نے یہ بات سن لی۔
انہوں نے سختی سے کہا: “تم خود کو اور ہمارے خاندان کو خطرے میں نہیں ڈال سکتی۔” ابیرہ نے احترام سے جواب دیا:
“ماموں… اگر فراز اس دن درمیان میں نہ آتا تو وہ لوگ میری زندگی تباہ کر دیتے۔”
ماموں نے کہا:
“ہم اس کے احسان مند ہیں، مگر یہ معاملہ آگے بڑھانے سے ہم سب کے لیے مشکلات پیدا ہوں گی۔”
گھر کا ماحول کشیدہ ہو گیا۔ آخرکار ابیرہ نے فیصلہ کر لیا کہ وہ گھر چھوڑ دے گی اور ہاسٹل میں رہے گی۔
اگلی صبح اس نے اپنا سامان اٹھایا اور ہاسٹل کی طرف روانہ ہو گئی۔
نانی اور ممانی نے اسے روکنے کی بہت کوشش کی۔ “بیٹا دوبارہ سوچ لو۔ خاموش رہو۔ اس سے فراز اور تم دونوں کے لیے مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔”
مگر ابیرہ نے نفی میں سر ہلایا۔
“اگر میں اس کے ساتھ کھڑی نہ ہوئی تو کل کسی ابیرہ کے ساتھ کوئی بھی کھڑا نہیں ہوگا۔” اور وہ گھر چھوڑ کر چلی گئی۔
ہاسٹل میں اس کی کلاس فیلو فجر فاطمہ نے اس کا استقبال کیا اور اس کی اچھی طرح دیکھ بھال کی۔
اس دن شدید بارش ہو رہی تھی، اس لیے وہ ہسپتال نہیں جا سکی۔
اس نے یونیورسٹی کے گروپس دیکھے جہاں فراز اور احتجاج کے بارے میں بات ہو رہی تھی۔ ویڈیوز میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپیں نظر آ رہی تھیں۔ اسی دوران اس نے ایک اور ویڈیو دیکھی۔
مختیارہ کا بھائی چوہدری منیر حکمران جماعت میں شامل ہوا تھا اور اسے وزیرِ ہاؤسنگ بنا دیا گیا تھا۔ اس کے دل میں خوف بڑھ گیا۔ طاقتور لوگ پہلے ہی غریبوں کے ساتھ ظلم کر رہے تھے۔ اب لگ رہا تھا کہ فراز کو انصاف ملنا تقریباً ناممکن ہے۔
مگر اس کے باوجود ابیرہ ڈری نہیں۔وہ ہر قیمت پر فراز کے ساتھ کھڑی رہے گی۔
وہ آئی ٹی کی طالبہ تھی، اس لیے اسے معلوم تھا کہ کیا کرنا ہے۔
اس نے سوشل میڈیا پر کئی صفحات بنائے جن کا نام تھا:
#JusticeForFaraz
پہلا ہی ہیش ٹیگ آگ کی طرح پھیل گیا۔
“نا منظور! نا منظور! قاتل کا بھائی منسٹر نا منظور!”
اس کے ساتھ اس نے لکھا کہ چوہدری منیر دراصل چوہدری مختیار کا بھائی ہے، جو فراز پر قاتلانہ حملے کا اصل ذمہ دار ہے۔ یہ پیغام تیزی سے پھیل گیا۔
طلبہ یونینز، اساتذہ کی تنظیمیں اور حتیٰ کہ اپوزیشن جماعتیں بھی اسے شیئر کرنے لگیں۔
چند ہی گھنٹوں میں #JusticeForFaraz پورے ملک میں ٹرینڈ کرنے لگا۔
عوامی دباؤ اتنا بڑھ گیا کہ حکومت کو قدم اٹھانا پڑا۔
چوہدری منیر کو وزارت سے ہٹا دیا گیا اور اس کی رکنیت معطل کر دی گئی، جب تک اس کے بھائی کو گرفتار نہ کر لیا جائے۔
اور صرف پانچ دن کے اندر اندر مختیارہ اور اس کا پورا گروہ گرفتار ہو گیا۔
ہر بار انصاف کے لیے خود کو ظاہر کرنا ضروری نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی ضمیر کی ایک چھوٹی سی آواز بھی دنیا بدل سکتی ہے۔ ایمان کا سب سے کمزور درجہ یہ ہے کہ انسان دل میں برائی کو برا سمجھے۔
مگر ابیرہ نے اس سے کہیں بڑھ کر کیا تھا۔ اس نے ہمت دکھائی۔ اور اس ہمت نے انصاف کو ایک قدم اور قریب کر دیا۔