سی سی یو کی فضا جیسے خود ایک کہانی سنا رہی تھی۔ راہداری میں پھیلی خاموشی، مشینوں کی مدھم آوازیں اور بےچینی سے بھری سانسیں سب مل کر ایک دردناک منظر تشکیل دے رہے تھے۔
باہر مختلف کونوں میں رکھی بنچوں پر تین لوگ بیٹھے تھے، مگر یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ہر ایک اپنی الگ دنیا کے کرب میں ڈوبا ہوا ہو۔
فراز کی ہم عمر ایک نوجوان لڑکی سوجھی ہوئی اور بھیگی آنکھوں کے ساتھ ہاتھ اٹھائے مسلسل دعا مانگ رہی تھی۔ اس کی ہچکیاں تھمنے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔
ناصرہ کے ہاتھ میں تسبیح تھی، مگر اس کی انگلیاں اس قدر کانپ رہی تھیں کہ دانے صحیح طرح آگے نہیں بڑھ پا رہے تھے۔ اس کی لبوں پر دعا تھی، مگر آنکھوں میں بےبسی۔
اور جاوید! وہ دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھامے بیٹھا تھا، جیسے اس المناک لمحے کا بوجھ اس کے وجود سے برداشت نہیں ہو رہا تھا۔
یہ منظر ابیرہ کے دل پر بجلی بن کر گر رہا تھا۔
اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ فراز کے گھر والوں کو اس حال میں دیکھے گی۔ دل میں ایک عجیب سا درد اٹھ رہا تھا؛ پچھتاوے کا، شرمندگی کا، اور شاید کسی گہرے احساس کا بھی۔
وہ ابھی ان کے پاس سے گزر رہی تھی کہ اچانک عارفہ اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔
اس کی آنکھوں میں التجا تھی، آواز میں ٹوٹا ہوا یقین۔
“ڈاکٹر میڈم… کیا آپ میرے بھائی کو بچا لیں گی؟”
وہ ایک ہی سانس میں بولتی چلی گئی۔
“ہم بچپن سے ساتھ ہیں۔ میں اس کے بغیر زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔ وہی ایک ہے جو مجھے سمجھتا ہے… وہی میرا سب کچھ ہے۔ کیا آپ اسے بچا سکتی ہیں؟”
اس کی آواز کانپ رہی تھی۔
"میں کچھ بھی دینے کو تیار ہوں۔ آپ جو چاہیں لے لیں… میری جان بھی لے لیں… مگر میرے بھائی کو بچا لیں۔ وہ ہمارے لیے سب کچھ ہے۔”
جاوید نے فوراً عارفہ کو تھام لیا، مگر اس کے سوال ابیرہ کے دل میں تیر کی طرح پیوست ہو چکے تھے۔
ابیرہ کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ وہ خود کو سنبھالنے کی کوشش کرتی ہوئی تیزی سے سی سی یو کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
کمرے کے اندر ایک بےبس جسم بستر پر پڑا تھا۔
اس کے اردگرد لگی مشینیں مسلسل اس کے دل کی دھڑکنیں گن رہی تھیں۔ اسکرین پر بلڈ پریشر کے اتار چڑھاؤ کی لکیریں ابھر رہی تھیں۔ اس کے چہرے پر آکسیجن ماسک لگا ہوا تھا۔
وہ فراز تھا۔
مگر ایسا فراز… جسے دیکھ کر دل میں ایک چبھتا ہوا درد اٹھتا تھا۔
ابیرہ کے دل میں شدید احساسِ جرم جاگا۔
وہ اسی شخص کے حق میں کھڑی نہ ہو سکی تھی… جو کبھی اس کی زندگی کا محافظ بن کر کھڑا ہو گیا تھا۔
اس کے ذہن میں وہ دن بار بار ابھر رہا تھا۔
اگر فراز اُس دن نہ ہوتا… تو شاید وہ ایک ایسے شخص کے ہاتھوں رسوا ہو چکی ہوتی جس سے وہ شدید نفرت کرتی تھی۔
وہ آہستہ سے ایک اسٹول کھینچ کر اس کے قریب بیٹھی۔
اس نے فراز کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور دھیرے سے بولی؛
“میں جانتی ہوں… جہاں مختیارا ہوں گے، وہاں فراز بھی ہوگا…”
اس کی آواز لرز گئی۔
“مگر میں یہ کیوں نہ کہہ سکتی کہ جہاں فراز مدد کے لیے پکارے گا… وہاں ابیرہ بھی ہوگی؟”
یہ کہتے ہی اس کے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا۔
وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ اس کے آنسو فراز کے ہاتھ پر گرنے لگے۔
“فراز… میں نے اپنی زندگی میں کبھی کسی کو نہیں دیکھا جو مشکل وقت میں میرے ساتھ کھڑا ہو۔”
اس کی آواز بھرّا گئی۔
“وہ تم تھے… جو میرے لیے کھڑے ہوئے۔ یہاں تک کہ میرے اپنے خون کے رشتے بھی اس وقت میرے ساتھ نہیں تھے جب مجھے ان کی ضرورت تھی۔”
وہ لمحہ بھر کو رکی، پھر آہستہ سے بولی۔
“مجھے نہیں معلوم کیوں… مگر تمہارے لیے میرے دل میں بہت گہرا احساس ہے۔”
اس کی آنکھوں سے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے۔
“دنیا میں بہت سے لوگ ہوتے ہیں جو کسی کا احسان لے کر بھول جاتے ہیں۔ میں بھی چاہتی تو ویسی ہی ناشکری کر سکتی تھی… تمہارا احسان بھلا سکتی تھی۔”
اس نے فراز کا ہاتھ اور مضبوطی سے تھام لیا۔
“مگر یقین کرو فراز… میں سچ بتانے سے ڈرتی رہی۔ تمہارے ساتھ جو کچھ ہوا… اس کی وجہ میں ہی ہوں۔”
اس کی آواز ٹوٹ گئی۔
“اگر میں مجرموں کے نام بتا دیتی… تو وہ آج جیل میں ہوتے۔ مگر میں اپنے ننھیال کے رحم و کرم پر تھی۔ وہی لوگ تھے جنہوں نے مجھے پناہ دی ہوئی تھی۔”
چند لمحے خاموشی چھائی رہی۔
پھر اس نے سر جھکا کر کہا۔
“لیکن آج تمہیں… اور تمہارے گھر والوں کو اس حال میں دیکھ کر… میں فیصلہ کر چکی ہوں۔”
اس کی آواز میں اب عزم تھا۔
“اگر مجھے بے گھر بھی ہونا پڑے… تو بھی میں تمہارے ساتھ اسی طرح کھڑی رہوں گی جیسے تم اُس دن میرے ساتھ کھڑے ہوئے تھے۔”
ابیرہ روتے روتے یہ سب کہہ رہی تھی۔
درد کی شدت اس قدر تھی کہ اس نے اپنا سر فراز کے ہاتھ پر رکھ دیا۔
“مجھے معاف کر دو فراز… خدا کے لیے مجھے معاف کر دو… اور اٹھ جاؤ…”
کچھ لمحے گزرے۔
پھر اچانک اسے محسوس ہوا جیسے کسی چیز نے اس کے سر کو آہستہ سے چھوا ہو۔
وہ چونک کر فوراً اٹھ بیٹھی۔
اس نے دیکھا—فراز کا دایاں ہاتھ اس کے سر کے قریب تھا۔
اس نے فوراً اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور دوبارہ حرکت کروانے کی کوشش کی۔
مگر اس بار ہاتھ بالکل ساکت تھا۔
ابیرہ تیزی سے باہر کی طرف دوڑی۔
اس کی آواز میں بےحد جوش تھا۔
“اس نے میرے سر کو چھوا تھا! اس نے اپنا ہاتھ ہلایا تھا! ڈاکٹر کو بلائیں… ڈاکٹر کو چیک کرنے کو بولیں!”
عارفہ نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔
“پھر تم کون ہو؟”
ابیرہ ابھی کچھ کہنے ہی والی تھی کہ ڈاکٹر حرا نے فوراً صورتحال سنبھال لی۔
“یہ آغا خان کی ڈاکٹر ہیں… میری ساتھی۔ میں نے ہی ان سے کیس دیکھنے کی درخواست کی تھی۔”
ڈاکٹر حرا ابیرہ کو اپنے کیبن میں لے گئی۔
وہ اندر سے اس کی نادانی پر ناراض تھی، مگر ابیرہ کی کیفیت دیکھ کر خاموش رہی۔
ابیرہ ابھی تک بےچینی سے بولے جا رہی تھی۔
“ڈاکٹر حرا! فراز نے واقعی اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھا تھا!”
ڈاکٹر حرا نے سنجیدگی سے کہا۔
“ٹھیک ہے… اب مجھے ساری بات بتاؤ۔ اصل معاملہ کیا ہے؟”
تب ابیرہ نے عباسی ہوٹل سے لے کر اس گینگ تک ساری کہانی اسے بتا دی۔
ہر واقعہ… ہر تفصیل۔
ڈاکٹر حرا نے اسے مشورہ دیا کہ وہ فی الحال خاموش رہے اور مجرموں کی رپورٹ فوراً درج نہ کروائے۔
مگر ابیرہ نے ہمت سے کہا کہ وہ پولیس اسٹیشن جا کر سب کچھ بتانے کو تیار ہے۔
ڈاکٹر حرا نے نرمی سے سمجھایا کہ فراز کے ہوش میں آنے تک خاموش رہنا زیادہ بہتر ہوگا۔
اس نے یہ بھی کہا کہ ابیرہ روز یہاں آئے اور فراز سے بات کرے… کیونکہ وہ صرف اسی کی آواز پر ردعمل دے رہا تھا۔
بعد ازاں ڈاکٹر حرا نے اسپتال کے دیگر ماہر ڈاکٹروں کو اپنے کیبن میں بلایا۔
اس نے انہیں پوری صورتحال بتائی خاص طور پر یہ کہ ابیرہ کے بات کرنے کے بعد فراز میں ردعمل ظاہر ہوا تھا۔
پانچ میں سے چار ڈاکٹروں کی یہی رائے تھی کہ ابیرہ کو باقاعدگی سے آ کر فراز سے بات کرنی چاہیے، کیونکہ اس کے علاوہ کوئی چیز اسے ردعمل دینے پر مجبور نہیں کر رہی تھی۔
ابیرہ نے ڈاکٹر حرا کی سخت ہدایت پر خاموش رہنے پر رضامندی ظاہر کر دی۔
وہ شاید کبھی اس بات پر راضی نہ ہوتی، مگر اس نے اسے سمجھایا۔
“تمہارا بیان صرف شک کی بنیاد بنے گا، مگر قانون ثبوت مانگتا ہے۔”
وہ رک کر بولی۔
“اس لیے تمہارے بیان کے ساتھ فراز کا بیان بھی ضروری ہے۔”
پھر اس نے سنجیدگی سے کہا۔
“اگر تم ابھی بیان دے دو… تو وہ گینگ فراز اور اس کے خاندان کو نقصان پہنچا سکتا ہے تاکہ کیس کمزور ہو جائے۔”
ابیرہ خاموش کھڑی رہی۔
مگر اس کے دل میں ایک فیصلہ اب مکمل طور پر جنم لے چکا تھا۔
وہ اس بار پیچھے نہیں ہٹے گی، البتہ فی الحال خاموش رہنا ہی بہتر تھا۔