Chapter

انجام

زندگی کوئی ڈرامہ نہیں جہاں ہر کہانی کے آخر میں سب کچھ ٹھیک ہو جائے اور ایک حسین سا “ہیپی اینڈنگ” ملے۔ حقیقت اس سے کہیں زیادہ تلخ ہے۔ جذبات، احساسات اور رشتے… یہ سب آزمائشوں سے گزرتے ہیں۔ یہی کچھ ابیرہ اور فراز کے ساتھ بھی ہوا۔

ہم اکثر کہانیوں میں سنتے ہیں: “اور وہ ہمیشہ خوش و خرم رہے”۔ مگر اگر زندگی واقعی اتنی آسان ہوتی، تو ہر انسان جینے کی خواہش کرتا۔ حقیقت یہ ہے کہ جب دو روحیں ملتی بھی ہیں، تب بھی اختلاف، ٹکراؤ اور غلط فہمیاں ان کا پیچھا نہیں چھوڑتیں۔

آٹھ فروری، ابیرہ کی سالگرہ تھی۔ فراز نے فیصلہ کیا کہ وہ اسے اس کے یونیورسٹی کیمپس، کامسیٹس میں جا کر سرپرائز دے گا۔ اس نے اپنی گاڑی کو سجایا، تحائف خریدے، اور خوشی سے لبریز دل کے ساتھ روانہ ہو گیا… مگر اسے کیا معلوم تھا کہ وہاں اس کے لیے ایک طوفان منتظر ہے۔

وہ گلدستہ ہاتھ میں لیے کلاس روم میں داخل ہوا۔ جمعہ کا دن تھا، اس لیے حاضری کم تھی۔ جیسے ہی اس نے اندر قدم رکھا، اس کی نظر ابیرہ پر پڑی—وہ اپنے دوستوں کے گھیرے میں کھڑی تھی۔ ایک لڑکا، جس کا نام ارتضیٰ تھا، اسے گلاب پیش کر رہا تھا۔

فراز رک گیا… اس امید میں کہ ابیرہ وہ گلاب قبول نہیں کرے گی۔ کیونکہ گلاب صرف ایک پھول نہیں، بلکہ جذبات کی زبان ہوتے ہیں۔

اس کے دل میں ایک عجیب سا یقین تھا کہ اس کی محبت بے مثال ہے۔ مگر کہیں نہ کہیں ایک خوف بھی تھا—کہ شاید اس دنیا میں سب کچھ بدل سکتا ہے۔

اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔ اس نے پہلے کبھی کسی سے اتنی گہری وابستگی محسوس نہیں کی تھی۔

پھر وہ لمحہ آیا… جس نے اس کے دل کو توڑ دیا۔ ابیرہ نے گلاب قبول کر لیا۔ ارتضیٰ نے اسے کیک کھلایا، اس کے چہرے پر کیک لگایا… اور اردگرد قہقہے گونجنے لگے۔

ہر ہنسی، ہر خوشی… فراز کے لیے کسی خنجر سے کم نہ تھی۔

اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہ مڑنے لگا تو اس کے ہاتھ سے گلدستہ گر گیا۔ مڑتے ہوئے وہ ایک کرسی سے ٹکرا گیا اور خود بھی زمین پر گر پڑا۔

کلاس روم میں اچانک خاموشی چھا گئی۔

ابیرہ نے اسے دیکھا… اور بے اختیار پکارا: “فراز!”

وہ لڑکھڑاتا ہوا باہر نکلا اور گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔ ابیرہ اس کے پیچھے بھاگی، اس کے ساتھ اس کی چند سہیلیاں اور ارتضیٰ بھی تھے۔

وہ اسے سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی… مگر جب زخم عمل سے لگے ہوں، تو الفاظ مرہم نہیں بن سکتے۔

“فراز! تم اتنے غصے میں کیوں ہو؟ کچھ تو بولو!”

فراز خاموش رہا۔ آنسو اس کے چہرے پر بہتے رہے۔ اس نے گاڑی کی سجاوٹ اتاری اور زمین پر پھینک دی۔ تحفے، مگ، کیک… سب کچھ ٹکڑوں میں بکھر گیا۔

ہر آواز ابیرہ کے دل کو دہلا رہی تھی۔

“فراز! آخر ہوا کیا ہے؟ مجھے بتاؤ تو سہی… میں سب واضح کر سکتی ہوں!”

فراز نے اپنا سر تھام لیا اور سڑک کنارے بیٹھ گیا۔ ابیرہ اس کے سامنے بیٹھ گئی، معافی مانگتی ہوئی، اس کے ہاتھ تھامے۔

منظر اتنا دردناک تھا کہ اس کی سہیلیاں سارہ اور اذکیٰ بھی آبدیدہ ہو گئیں۔

اسی دوران، ارتضیٰ نے موقع دیکھ کر ابیرہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا تاکہ وہ کھڑی ہو جائے۔

یہ لمحہ چنگاری بن گیا۔

فراز نے اچانک اٹھ کر ارتضیٰ کے چہرے پر گھونسہ مارا۔ وہ گر پڑا۔ پھر ارتضیٰ نے جواب دیا… اور دونوں ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑے۔

یونیورسٹی کے لڑکوں نے آ کر انہیں الگ کیا۔

غصے سے بھرپور فراز گاڑی میں بیٹھا اور تیزی سے نکل گیا۔ ابیرہ اس کے پیچھے بھاگی… مگر اسے روک نہ سکی۔

رات تک وہ اسے کال کرتی رہی، مگر اس کا فون بند ہو گیا۔ بے چینی اس کے دل میں گھر کر گئی۔

دوسری طرف، فراز اسلام آباد کی سڑکوں پر بے مقصد بھٹکتا رہا۔ ایونیو روڈ، کشمیر ہائی وے، ایکسپریس وے… وہ کہیں بھی سکون نہ پا سکا۔

آخرکار گاڑی کا انجن گرم ہو کر بند ہو گیا۔

اس نے غصے میں اسٹیئرنگ پر مکے مارنے شروع کر دیے۔ ہر ضرب کے ساتھ ہارن بجتا رہا، جیسے اس کے اندر کا شور باہر نکل رہا ہو۔

لوگ جمع ہو گئے۔ “کیا مسئلہ ہے؟” انہوں نے پوچھا۔

“یہ میری گاڑی ہے، میرا مسئلہ ہے!” فراز نے جھنجھلا کر جواب دیا۔

بات بڑھ گئی… اور ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔

پہلے لوگ پیچھے ہٹ گئے—“یہ پاگل ہو گیا ہے”، کہتے ہوئے۔ اور واقعی… وہ پاگل ہو چکا تھا۔

مگر پھر مزید لوگ آئے… اور اس بار اسے بری طرح مارا۔

وہ ہنستا رہا۔ ہر ضرب پر ہنستا رہا۔

کیونکہ جو درد اسے آج ملا تھا… وہ ان مکے گھونسوں سے کہیں زیادہ شدید تھا۔

آخرکار وہ زمین پر گر گیا۔ پھر بھی اٹھا… اور ہارن بجاتا رہا، دیوانوں کی طرح ہنستا ہوا۔

لوگوں نے اسے باندھ دیا، ایک درخت کے ساتھ۔ اس کے گرد ٹافیاں ڈال دیں… اور چلے گئے۔

جلد ہی چیونٹیاں اس کے جسم پر چڑھنے لگیں۔

وہ کمزور تھا، زخمی تھا… اور اب بے بس بھی۔

وہ خود کو آزاد نہ کرا سکا۔

آہ… انسان خود پر کتنا ظلم کرتا ہے۔ دنیا کے زخم تو سہہ لیتا ہے… مگر محبوب کی دی ہوئی انجانی چوٹ کو نہیں بھلا پاتا۔

فراز کے ساتھ بھی یہی ہوا۔

اب اس کے جسم کے زخم بے معنی ہو چکے تھے۔ اسے لگا… شاید وہ مر رہا ہے۔

زندگی کی روشنی مدھم پڑ رہی تھی۔ وہ ابیرہ سے دور ہوتا جا رہا تھا…

کہ اچانک، اسے دور کچھ روشنیاں نظر آئیں۔ چند لوگ ٹارچ لیے اس کی طرف بڑھ رہے تھے…

مگر وہ یہ نہ پہچان سکا کہ وہ کون ہیں۔