Chapter

کھوج

شام ڈھل رہی تھی جب فراز، ابیرہ کو اس کے گھر والوں کے پاس لے جانے کے لیے نکلا۔ راستے بھر ابیرہ کے دل میں ایک انجانا خوف پلتا رہا۔

’’وہ مجھے قبول نہیں کریں گے،‘‘ اس نے دھیمی آواز میں کہا، ’’ان کے خیال میں میں ان کے لیے ایک مصیبت ہوں۔‘‘

فراز نے مسکرا کر اسے دیکھا۔

’’ہمارے بڑے زیادہ دیر ناراض نہیں رہ سکتے۔‘‘

پھر جیسے اسے حوصلہ دینے کے لیے اس نے اوشو کا ایک قول دہرایا:

’’نہ کوئی کل ہے، نہ کوئی گزرا ہوا کل… اہم صرف آج ہے، اور وہ لمحہ ہے جس میں ہم زندہ ہیں۔ زندگی کو اسی لمحے میں جینا چاہیے۔‘‘

ابیرہ کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس نے فراز کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا اور شرارت سے بولی:

’’ایک کمپیوٹر سائنس کی لڑکی، آخر ادب کے طالب علم سے مقابلہ کیسے کر سکتی ہے؟‘‘

فراز بھی مسکرا دیا۔ اس نے جواب میں صرف اس کی پیشانی پر بوسہ دیا۔

مگر کچھ فاصلے پر کھڑی سارہ یہ سارا منظر دیکھ رہی تھی۔ اس کے چہرے پر ناگواری صاف عیاں تھی۔ وہ بار بار قلم کی نوک اپنے ہاتھ میں چبھوتی، جیسے سامنے کا منظر اس کے اندر کوئی زخم کرید رہا ہو۔

فراز نے دروازے کی گھنٹی بجائی۔

چند لمحے انتظار کیا۔

کوئی جواب نہ آیا۔

اس نے دوبارہ گھنٹی بجائی۔

پھر بھی خاموشی۔

ابیرہ نے الجھن میں فراز کا ہاتھ کھینچا۔

’’چلو واپس چلتے ہیں…‘‘

فراز نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔

’’مجھ پر بھروسا کرو۔‘‘

اس نے تیسری بار گھنٹی بجائی۔

کچھ دیر بعد دروازہ کھلا اور ابیرہ کے ماموں قاسم سامنے آ کھڑے ہوئے۔

ابیرہ فوراً اس کے پیچھے چھپ گئی۔

’’جی؟‘‘ ماموں قاسم نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔

مصور نے چند لمحے انہیں دیکھا، پھر ایک طرف ہو کر ابیرہ کو اپنے دائیں جانب لے آیا۔

ماموں قاسم نے ابیرہ کو دیکھا تو ان کے چہرے پر حیرت ابھری۔ اگلے ہی لمحے وہ آگے بڑھے، اس کی پیشانی کو چوما اور مصور سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا:

’’شکریہ۔‘‘

پھر وہ ابیرہ کو اپنے ساتھ اندر لے گئے۔

نہ فراز کو چائے کی پیشکش ہوئی، نہ پانی کی، نہ کافی کی۔

ابیرہ نے اندر جاتے ہوئے ایک بار پلٹ کر فراز کو دیکھا۔

فراز نے مطمئن سی مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھا اور ہاتھ کے اشارے سے کہا:

’’جاؤ…‘‘

دروازہ بند ہوگیا۔

فراز نے جیب سے سگریٹ اور لائٹر نکالا۔ سگریٹ سلگایا، ایک گہرا کش لگایا، موٹر سائیکل کو کک ماری اور راولپنڈی کی طرف روانہ ہوگیا۔

پورا ویک اینڈ دونوں کے درمیان کوئی رابطہ نہ ہوا۔

فراز نے یہی سمجھا کہ ابیرہ طویل عرصے بعد اپنے گھر والوں سے ملی ہے، اس لیے یقیناً ان کے ساتھ وقت گزارنے میں مصروف ہوگی۔

دوسری طرف فراز خود بھی راولپنڈی سے اسلام آباد منتقل ہونے کی تیاریوں میں مصروف تھا۔ گھر والے اسلام آباد کے نئے آباد ہونے والے علاقے ’’غوری ٹاؤن‘‘ میں منتقل ہونے کا فیصلہ کر چکے تھے۔ ان کی والدہ حال ہی میں سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہوئی تھیں اور ریٹائرمنٹ کی جمع پونجی کو بہتر انداز میں استعمال کرنے کا سب سے مناسب طریقہ یہی محسوس ہوا کہ اسلام آباد میں ایک قابلِ رہائش جگہ خریدی جائے۔

پیر کی صبح فراز یونیورسٹی پہنچا۔

دل میں ایک امید تھی کہ کلاسز کے بعد ابیرہ سے ملاقات ہوگی۔

اس نے اسے ’’Good Morning‘‘ کا پیغام بھیجا تھا، مگر کوئی جواب نہیں آیا۔

فراز نے اسے معمول کی بات سمجھا۔ شاید اس کے موبائل میں پیکیج نہ ہو، شاید وہ یونیورسٹی کی تیاریوں میں مصروف ہو، یا شاید موبائل اس کے پاس نہ ہو۔

مگر وقت گزرتا گیا۔

آخری کلاس تک بھی جواب نہ آیا تو اس کے اندر بے چینی نے جنم لینا شروع کر دیا۔

کلاس میں مس عائشہ ڈیوڈ اوتھیلو کی تشریح انتہائی خوبصورتی سے کر رہی تھیں۔ شیکسپیئر کے کردار، حسد، محبت اور المیے پر گفتگو جاری تھی، مگر فراز کا ذہن کہیں اور بھٹک رہا تھا۔

اس نے ابیرہ کو فون کیا۔

فون نہیں ملا۔

دوبارہ کیا۔

کوئی جواب نہیں۔

اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔

تیسری بار کوشش کی۔

پھر بھی رابطہ نہ ہوسکا۔

اس کے ذہن میں ایک خوفناک شور گونجنے لگا۔

ایسا شور جیسے اس کی اپنی زندگی اس کے کانوں میں چیخ رہی ہو۔

اسے لگا جیسے وہ اس شور سے مر جائے گا۔

اچانک ایک اور آواز نے اسے اس خوفناک خیال سے باہر نکالا۔

مس عائشہ نے اس کے سامنے میز پر رکھا ناول زور سے بند کر دیا تھا۔

’’تمہارے دماغ میں کیا چل رہا ہے؟‘‘

فراز نے چونک کر ان کی طرف دیکھا۔

’’میں کئی منٹ سے تم سے بات کر رہی ہوں اور تم جواب ہی نہیں دے رہے۔ کیا ہوا ہے؟‘‘

مس عائشہ عموماً کسی طالب علم کو نہیں ڈانٹتی تھیں، مگر آج ان کے لہجے میں سختی تھی۔

فراز پھر بھی خاموش رہا۔

’’Get out of my class!‘‘

مس عائشہ چیخ اٹھیں۔

اور یہ حکم فراز کے لیے کسی نعمت سے کم نہ تھا۔

اس کے اندر صرف ایک سوال تھا:

ابیرہ کہاں ہے؟

وہ کلاس سے نکلا، موٹر سائیکل اسٹارٹ کی اور بے قابو رفتار سے آپارہ کی طرف روانہ ہوگیا۔

رفتار سو کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ چکی تھی۔ ٹریفک سگنل، قوانین، گاڑیاں اس وقت اسے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔

صرف ابیرہ۔

صرف اس کا چہرہ۔

صرف اس کی خاموشی۔

گیارہ منٹ بعد وہ اس کے گھر کے قریب پہنچ چکا تھا۔

گھنٹی بجائی۔

کوئی جواب نہیں۔

دوبارہ۔

پھر بھی خاموشی۔

پھر تیسری بار۔

خاموشی۔

اس کا دل ڈوبنے لگا۔

وہ پاگلوں کی طرح گھنٹی پر گھنٹی بجاتا رہا۔

مزید دس منٹ انتظار کے بعد بھی جب دروازہ نہ کھلا تو اس نے اپنے دوستوں کو فون کیا اور ساری صورتحال بتا دی۔

بیس منٹ کے اندر اس کے دوست وہاں موجود تھے۔

اس دوران فراز نے COMSATS سے بھی تصدیق کی۔ جواب نے اس کے پاؤں تلے زمین کھینچ لی۔

’’وہ آج کے لیکچر میں آئی ہی نہیں تھی۔‘‘

دوست اسے قریبی پولیس اسٹیشن لے گئے۔

نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی گئی۔

مگر فراز کے پاس سوال بہت تھے اور جواب ایک بھی نہیں۔

وہ سڑک کنارے لیٹ گیا۔

پسینے میں بھیگا ہوا۔

آنکھوں میں آنسو۔

ذہن میں الجھن۔

دوست اسے تسلی دیتے رہے۔

’’ہو سکتا ہے کوئی ایمرجنسی ہوگئی ہو۔ گھبراؤ نہیں۔‘‘

مگر دل کسی تسلی کو ماننے کے لیے تیار نہ تھا۔

فراز دوبارہ تھانے پہنچا۔

اس نے ٹیلی فون آپریٹر کو ابیرہ کا نمبر ٹریس کرنے کے لیے پانچ سو روپے دیے۔

پولیس اہلکار نے اِدھر اُدھر دیکھا، پانچ سو روپے لیے، اپنے بائیں جوتے کے موزے میں رکھے اور فراز سے کہا:

’’انتظار کرو۔‘‘

پندرہ منٹ بعد وہ واپس آیا۔

’’آخری لوکیشن ٹھنڈیانی آئی ہے۔‘‘

فراز کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔

ٹھنڈیانی؟

وہ کچھ سمجھ نہیں پا رہا تھا۔

ابیرہ وہاں کیوں ہوگی؟

کس کے ساتھ ہوگی؟

وہ گئی کیسے؟

اور سب سے بڑھ کر

وہ تھی کہاں؟

فراز نے اپنے دوستوں سے کہا:

’’تم لوگ واپس جاؤ۔ اب میں یہ سب اکیلا کروں گا۔‘‘

مگر ساران نے صاف انکار کر دیا۔

’’میں تمہیں اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔‘‘

اس کے لہجے میں ایسی مضبوطی تھی کہ فراز مزید کچھ نہ کہہ سکا۔

کچھ ہی دیر بعد دونوں ایک خفیہ ادارے کے دفتر میں بیٹھے تھے، جہاں ساران کے ماموں ملازمت کرتے تھے۔

وہاں سے ابیرہ کے فون کی کالز اور رابطوں کی تفصیلات حاصل کی گئیں۔

نمبروں کی ایک لمبی فہرست سامنے تھی۔

مگر ایک نمبر بار بار سامنے آ رہا تھا۔

ایک ایسا نمبر جس سے ابیرہ کا بارہا رابطہ ہوا تھا۔

نام تھا:

شیر خان۔

اور اس نمبر کی لوکیشن تھی

کوٹلہ۔