Chapter

شکوے

اگلے دن فراز اٹھا، تیار ہوا اور دوستوں کے ساتھ کیمپس چلا گیا۔ کینٹین میں سب نے ناشتہ کیا اور پھر کلاسز کی طرف بڑھ گئے۔ جیسے ہی وہ کلاس کے قریب پہنچا، اس کی نظر ابیرہ پر پڑی جو دروازے کے باہر کھڑی تھی۔ فراز کے دوستوں نے معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ اسے اکیلا چھوڑ دیا اور خود کلاس میں چلے گئے۔

فراز نے ابیرہ کی طرف دیکھا۔ اس کی نظریں جھکی ہوئی تھیں، ہاتھ الجھے ہوئے انداز میں ایک دوسرے میں پھنسے ہوئے، اور وہ خاموشی سے وہیں کھڑی رہی۔ فراز نے سخت لہجے میں کہا، "اب کیا چاہیے تمہیں؟"

ابیرہ خاموش رہی۔

"تم نے کسی کو اپنے اوپر کیک لگانے دیا، تمہیں گلاب دینے دیا… پھر اب یہاں کیوں آئی ہو؟ کیا باقی رہ گیا ہے؟"

خاموشی پھر بھی قائم رہی۔

فراز نے غصے میں آواز بلند کی، "بتاؤ مجھے!" کیوں؟

اس کی آواز سن کر ابیرہ گھبرا گئی، اور اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی ایک پرت بہہ نکلی۔

فراز نے ایک لمحے کے لیے نظریں اوپر اٹھائیں، گہرا سانس لیا، اور آگے بڑھا تاکہ اس کے آنسو پونچھ سکے۔ مگر ابیرہ خوف سے ایک قدم پیچھے ہٹ گئی، اسے لگا شاید فراز اسے تھپڑ مار دے گا۔

فراز پھر آگے بڑھا، نرمی سے اس کے آنسو صاف کیے اور اس بار دھیمے لہجے میں بولا، "مجھے بتاؤ… ایسا کیوں کیا تم نے؟ کیوں قبول کیا وہ گلاب؟ کیوں کسی کو کیک لگانے دیا؟"

ابیرہ نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا، "مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ منع ہوتا ہے محبت کے اصولوں میں… میں نے بہت سی لڑکیوں کو ایسا کرتے دیکھا ہے۔ اگر مجھے پتہ ہوتا تو میں کبھی ایسا نہ ہونے دیتی۔ میں اپنی غلطی پر معافی مانگتی ہوں… مگر پلیز، میرے ساتھ ایسا مت کرو۔ اس دنیا میں تمہارے سوا میرا کوئی نہیں ہے۔"

فراز کا چہرہ سخت ہو گیا۔ "تمہیں پتا ہے دھوکہ کیا ہوتا ہے؟ تم نے میرا اعتماد توڑا ہے۔ میں نے کبھی کسی اور کے بارے میں سوچا تک نہیں۔ تم نے میرے دل میں جذبات جگائے، مجھے اپنی عادت بنا دیا… اور پھر…"

وہ رکا، پھر دھیرے مگر گہرے لہجے میں بولا، "میرے نزدیک محبت یہ نہیں کہ محبوب کے سامنے اس کے حقوق کا خیال رکھا جائے… بلکہ اس کی غیر موجودگی میں اس کی عزت اور حق کی حفاظت کی جائے۔ ابیرہ تم نے مجھے بہت تکلیف دی ہے۔"

بات ابھی جاری تھی کہ اچانک دور سے سارہ نمودار ہوئی۔ اس نے ہاتھ ہلایا اور ان کی طرف بڑھنے لگی۔ قریب آنے سے پہلے اس نے ایک سرسری نظر ابیرہ پر ڈالی، پھر آ کر فراز کو گلے لگا لیا۔ "کیسے ہو تم؟" اس نے بے تکلفی سے پوچھا۔ ابیرہ نے یہ منظر دیکھا تو نظریں جھکا لیں۔

سارہ ابھی تک فراز کو مضبوطی سے تھامے ہوئے تھی کہ فراز نے اسے آہستہ سے الگ کیا، ابیرہ کا ہاتھ تھاما، اور بولا، "سارہ! ملو، یہ میری منگیتر ابیرہ ہے۔ ابیرہ! یہ میری کولیگ سارہ ہے۔"

سارہ کے چہرے کے تاثرات فوراً بدل گئے۔ "کل تک تو یہ ایک راہ چلتی لڑکی تھی… آج تمہاری منگیتر کیسے بن گئی؟" اس نے طنزیہ انداز میں کہا۔

فراز نے سکون سے جواب دیا، "کل ہماری لڑائی ہوئی تھی، اسی لیے میں نے وہ سب کہا تھا۔"

سارہ نے تیکھے لہجے میں کہا، "تو تم صرف میرے پروپوزل سے بچنے کے لیے یہ سب کر رہے ہو؟ تم جانتے ہو میں تم سے محبت کرتی ہوں، اور تم مجھے نظرانداز کر رہے ہو۔"

فراز نے مضبوطی سے ابیرہ کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا، "سنو سارہ… ہم کل ملے تھے، مگر آج میں زندہ ہوں تو صرف ابیرہ کی وجہ سے۔ وہ ہمیشہ میری زندگی کی سانس رہی ہے۔ میں اس کے بغیر جینے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔"

فراز کے ان الفاظ نے ابیرہ کے گالوں پر شرم کی لالی بکھیر دی۔ وہ مسکرائی اور محبت بھری نگاہوں سے فراز کو دیکھنے لگی۔

مگر سارہ کے لیے یہ سب قبول کرنا آسان نہ تھا۔ اس نے ابیرہ کی طرف دیکھ کر دھمکی آمیز لہجے میں کہا، "میں تمہیں دیکھ لوں گی۔"

اور پھر وہ وہاں سے چلی گئی۔

فراز اب بھی ابیرہ کا ہاتھ تھامے ہوئے تھا، اور اس کی گرفت لمحہ بہ لمحہ مضبوط ہوتی جا رہی تھی۔ دونوں ایک دوسرے کو محبت سے دیکھ رہے تھے۔

ابیرہ نے آہستہ سے اپنا ہاتھ چھڑایا اور معذرت کے انداز میں اپنے کانوں کو چھوا۔ فراز نے فوراً اس کے ہاتھ نیچے کیے اور انہیں اپنے ہاتھوں میں مضبوطی سے تھام لیا۔

آسمان پر بادل گرجے، جیسے محبت، شکرگزاری اور سکون کی کوئی ان کہی کہانی سنا رہے ہوں۔ دونوں نے سر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا۔ بادلوں سے بھرا آسمان اور ٹھنڈی ہوا جیسے یہ احساس دلا رہی تھی کہ فطرت بھی ان کے اس ملاپ پر خوش ہے۔