فراز کو یونیورسٹی گئے ابھی چھ ماہ ہوئے تھے، یونیورسٹی میں داخلہ ناصرہ اور اس کے کنبے سمیت سارے گاؤں کے لیے باران رحمت تھا۔۔
اس کا سلیکشن اس کی اہلیت پر نہیں بلکہ ناصرہ کے ہار کے عوض ہی ہوا تھا۔
اس کا داخلہ قائد اعظم یونیورسٹی میں شعبہ تاریخ میں ہوا تھا قائد اعظم میں داخلہ نمبروں کے ساتھ ہوتا تھا وہاں پر داخلے کا کوئی امتحان نہیں ہوتا تھا، اور انٹرمیڈیٹ میں اے ون اور بی اے میں پہلی ڈیویژن کی وجہ سے وہ پہلے ہی منتخب کردہ ڈیپارٹمنٹ میں سلیکٹ ہو گیا تھا۔
جاوید اور ناصرہ کے بہت اصرار کے باوجود اس نے ایم بی اے کی جگہ شعبہ تاریخ چنا تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ اسے تاریخ پڑھنے کا کوئی شوق تھا، وہ بس نہ ناصرہ کی امیدوں پر پانی پھیرنے کے فرض سے سبکدوش نہیں ہونا چاہتا تھا اس کے لیے چیلنجز لینا ایک روٹین ورک تھا۔
اس کو دسویں جماعت میں ایک ہندو لڑکی سے محبت کا بخار چڑھا تھا۔ وہ لڑکی اس کے ساتھ ایک نجی سکول میں پڑہتی تھی جو کم گو اور بہت سنجیدہ تھی۔ کلاس میں ہمیشہ پہلی پوزیشن لینے والے بچوں میں سے۔
نینا کا باپ کپڑے کی دکان چلاتا تھا جو کہ ان کا اپنا تھا ان کی دکان ڈہرکی شہر کے مرکز میں واقع تھی۔۔
فراز نے اسکول میں نینا کو متاثر کرنے کا ہر ہربا آزمایا مگر اس کے حصے میں مایوسی آئی۔
وہ صبح کو وقت پر اسکول آتا اور نینا کے مخالف سمت میں پڑی سامنے کی کرسی پہ قبضہ جما لیتا اور اگر کبھی دیر آتا تو اس کی کرسی پر بیٹھے لڑکے کو کوئی لالچ یا ڈرا دھمکا کر اٹھا دیتا۔۔
ایک دن کی بات ہے جب وہ نینا کے باپ کی دکان پہ جا پہنچا تھا یہ جون جولائی کی گرمیوں کی چھٹی کا وقت تھا جب اسے نینا کو دیکھے دس دن ہو چکے تھے، وہ ساگر کمار جو نینا کے باپ تھے ان سے کام مانگنے لگے تو وہ اس کو اپنے باپ کو لے آنے کا بول کر ٹالنے کی کوشش کرنے لگا۔ اتنے میں فراز کا اداکار جاگا تھا جس نے رونے کی اتنی اچھی ادا کاری کی تھی اور ساگر کو یقین دلایا تھا کہ اس کا کوئی نہیں ہے اور اس نے دو دن سے کچھ نہیں کھایا۔۔
ساگر کمار کو اس پر رحم آیا اور اس نے اپنا ٹفن فراز کی طرف بڑھاتے ہوئے اسے کام پہ رکھنے کا وعدہ کر چکے تھے۔
ہندوؤں کا ٹفن چھوٹا ہوتا تھا جس سے بمشکل ایک مسلمان کے آدھے سے بھی کم پیٹ کے حصے کو بھر سکتا تھا ٹفن کھولتے وقت فراز کے ضمیر نے اسے لعنت ملامت تو کی تھی مگر ٹفن میں موجود بھنڈی نے اسے اپنے ضمیر کو لوری سناتے ہوئے سلایا تھا اور بھنڈی پہ ہاتھ صاف کرنے شروع کر دیے تھے۔۔۔
اس نے عادتا اعوذ باللہ پڑھا مگر اعوذ باللہ پڑھنے سے اگر شیطان بھاگ جاتا تو بھنڈی کون کھاتا؟ مگر وہ شیطان نہیں تھا شیطان کی سپرلیٹو ڈگری تھا۔
دکان پر کام کرنے کا شوق اسے تب پیدا ہوا کہ جب اسے گاؤں کے ایک لڑکے نے بتایا کہ سیٹھ ملازموں کو اپنے گھر کام سے بھیجتے ہیں۔ اسے یہ تھا کہ وہ نینا کے گھر جا کے اس کے ساتھ قربت بڑھائے گا مگر اس کا سارا منصوبہ ارسلان کے ساگر کی دکان پہ آنے پر ملیا میٹ ہوا۔
ارسلان جاوید کا دوست تھا جب ارسلان دکان پر آئے تھے تو فراز چائے لینے گیا ہوا تھا۔ جب ساگر نے جو ارسلان کا دوست تھا بتایا کہ ایک غریب بچے کو اس نے کام پہ رکھا ہے اور ساری کہانی اور رونے دھونے کی روداد اسے سنائی۔ ارسلان پانی پی رہا جب ساگر نے ارسلان کو یہ بولتے ہوئے فراز کی طرف متوجہ کیا کہ یہ ہے وہ معصوم بچا بہت غریب ہے دو دن سے کچھ نہیں کھایا۔ ارسلان کے منہ سے پانی نکلا تھا فراز کو دیکھتے ہوئے اور فراز کا راز افشا ہونے میں کچھ سیکنڈز تھے، ارسلان کچھ بتاتا اس سے پہلے ہی ڈیمج کو کور کرنا تھا۔ فراز ساگر سے مخاطب ہو کے بننے لگا تھا کہ سیٹھ! یہ میرے سوتیلے بھائی کا دوست ہے اور وہ مجھے مارتا ہے اور کھانا بھی نہیں دیتا اس پہ ارسلان کا ایک بار اور زوردار قہقہہ نکلا تھا۔
فراز کو یہ تو پتہ چل چکا تھا کہ اب گیم الٹ گئی ہے ارسلان نے ساگر کو یہ بولا تھا کہ دکان میں کوئی بھجن پڑھوائے کیونکہ اس کی دکان میں راون کی آمد ہو چکی ہے۔ ساگر کمار کو بہت غصہ آیا تھا اور وہ کپڑے والا میٹر اٹھا کے اس کے پیچھے پڑا تھا اور فراز ڈرنا تو سیکھا ہی نہیں تھا تو وہ ڈٹا رہا اور ساگر ارسلان کے کہنے پر رک گیا تھا۔ ارسلان نے ساگر کو استاد دوست علی والی بات بتائی تھی اور ساگر کو اس کے پیچھے لگنے والا عمل بالکل اہمکانہ لگا تھا۔
فراز کو جب لگا کہ یہ چال تو گئی تو ڈھیٹوں کی طرح ساگر کو کہنے لگا؛
سیٹھ! میرا حساب کریں آپ ویسے بھی غیروں کے کہنے میں آگئے ہیں۔ یہ بات پھر ارسلان کے لیے کسی انٹرٹینمنٹ سے کم نہیں تھی۔
ساغر غرایا تھا مگر فراز کی کارنامے سن کے اس نے تین ہزار تنخواہ کے حساب سے اسے ایک سو روپیہ دینے میں ہی عافیت جانی تھی۔
فراز کے جانے پر ارسلان نے اس کو رکنے کا کہا تھا کہ گھر ساتھ چلتے ہیں اب فراز دشمن کے ساتھ کیسے جاتا اس نے انکار کیا تھا کہ میرے سوتیلے بھائی کے دوست کے ساتھ کیسے جاؤں؟ جس پر ارسلان نے مسکرا کے ہاتھ جوڑے تھے۔ تمہیں خدا کا واسطہ یار اداکاری بند کرو۔
ارسلان نے توقع کے مطابق جاوید کو ساری کہانی سنائی تھی مگر فراز امپوسیبل تھا اور رہنے والا تھا۔ یہ کوشش فیل ہونے کے بعد وہ نینا سے ملنے کے لیے اور حربے آزمانے لگا پھر اس نے ہندو کلاس فیلو سے پاٹشالہ کا سنا تھا اور یہ بھی کہ نینا وہاں روز اتی ہے۔
اس شہر میں ہندوؤں کے تقریبا دو محلے تھے۔ ایک ہندو محلا شہر کے مرکز میں تھا جہاں پہ سونار کی دکانیں بھی تھیں، اور فراز کا ایک شام سات بجے سانتھ سمانا پاٹشالہ میں نزول ہوا۔ وہاں موجود پنڈت نے اسے سمجھاتے ہوئے وہاں سے بھگانے کی کوشش کی کہ بچے تم مسلمان ہو تمہارے یہاں آنے کی کسی مسلمان کو بھنک بھی پڑی تو تمہیں اور تمہارے گھر والوں کا جینا عذاب ہوگا ہی ساتھ میں ہندو قبیلہ بھی مصیبت میں پڑ جائے گا، ایک گھنٹے کے سر کھپانے کے باوجود پنڈت اسے ٹس سے مس نہیں کر پایا تھا۔ وہ فراز تھا اور اس کی کسی بھی جگہ آمد عذاب سے کم نہیں تھی۔ پنڈت بے بسی اور لاچاری میں سر کھجاتے ہوئے سوچ رہے تھے کہ اس مصیبت کو کیسے ٹالا جائے کہ اتنے میں نینا کماری کی آمد ہوئی، وہ سمجھدار اور ذہین تھی جس نے فراز سے پہلی بار ٹھیک سے بات کرتے ہوئے اس کے آنے کی وجہ پوچھی۔ نینا نا چاہتے ہوئے اسے دھیمے لہجے میں بات کر رہی تھی۔ اگر صورتحال کو سنبھالنا سیکھنا چاہیے تھا تو اس بچی سے کوئی سیکھتا۔
فراز کے بولنے سے پہلے ہی پنڈت نے سارا ماجرہ بیان کیا اور اپنے تحفظات بھی۔ نینا کو اس وقت فراز پر بہت غصہ آیا تھا اس کا دل کر رہا تھا کہ وہ اس کی جان لے لے۔ مگر وہ نینا تھی مہذب اور حالات کی نزاکت کو پرکھنے والی۔۔۔
اس نے فراز کو ایک سائیڈ پر لے جا کے یہ بولا کہ فراز وہ جانتی ہے کہ وہ یہاں کیوں آیا ہے مگر کسی کو پانے کے لیے ایسی حرکتیں نفرتوں کے علاوہ کچھ نہیں دیتی نینا کو کوئی سمجھاتا یہ کوئی ٹیسٹ پیپر نہیں تھا کہ اسے جھٹ سے لکھ لیتی یہ فراز تھا نرخ سے پہلے کا عذاب۔۔
اس نے منہ بنا کے نینا سے پوچھا کہ وہ ایسا کیا کرے جو وہ چاہتا ہے وہ ہو جائے نینا جیسی دھیمے مزاج کی لڑکی کا پارہ بڑھتا جا رہا تھا مگر حالات صرف وہی سنبھال سکتی تھی۔ وہ یہ جانتی تھی اور اس نے سنبھالا تھا۔ نینا کا جواب فراز کو لاجواب کر گیا فراز کسی کو پانے کے لیے کبھی بھی اپنا مذہب ترک نہیں کرنا چاہیے نہ ہی کسی اور کے مذہب کی طرف راغب ہونا چاہیے۔ یہ گناہ ہے اس سے بدنامی اور مصیبت کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
جو تم چاہتے ہو ایک ہی صورت میں ممکن ہو سکتا ہے تم اسکول کھلنے تک پانچ وقت کی نماز پڑھو گے اور قران پاک کی تلاوت کرو گے اور ایک دن بھی نہیں چھوڑو گے اور نہ ہی ادھر آؤ گے۔ ٹھیک پہلی اگست کو ہم لائبریری میں صبح سات بجے ملیں گے۔ پہلا دن ہوگا لوگ بھی کم ہوں گے اور تم اپنے دل کی بات کر لینا۔۔۔ یاد رکھنا اگر تم ایک بار بھی مجھے اس محلے میں نظر ا گئے تو سمجھو سب ختم۔۔
نینا نے عارضی طور پر اس بلا کو ٹالنے کی کوشش کی تھی مگر فراز کی خوشی کی کوئی حد نہیں تھی ان کے ایک ہونے میں صرف چالیس دن تھے۔