یار موبائل کی جان چھوڑ دے میرے بھائی صرف اٹھ رنز درکار ہیں اور فرحت کراس کھیلتا ہے فراز کے فون بجنے اور اس میں متوجہ ہونے پہ گوہر نے اس کو اواز لگائی اگر اج شرط ہاری تو میں بتا رہا ہوں میں اس فراز کے بچے کا منہ توڑ دوں گا یہ اگلی آواز اسد کی تھی جو پچھلے چار دنوں میں 24 ہزار ہار چکا تھا۔۔
یار موبائل کی جان چھوڑ دے میرے بھائی صرف اٹھ رنز درکار ہیں اور فرحت کراس کھیلتا ہے فراز کے فون بجنے اور اس میں متوجہ ہونے پہ گوہر نے اس کو اواز لگائی اگر اج شرط ہاری تو میں بتا رہا ہوں میں اس فراز کے بچے کا منہ توڑ دوں گا یہ اگلی آواز اسد کی تھی جو پچھلے چار دنوں میں 24 ہزار ہار چکا تھا۔۔
ہیلو!
ہاں بول۔۔۔
فراز نے سب کو نظر انداز کر کے فون پہ بات کرنا شروع کی۔ اگلی جانب اکبر تھا ان دونوں نے ابھی کچھ دن پہلے میڈیکل کالج کے لیے این ٹی ایس کا امتحان دیا تھا اور ہر بار کی طرح فراز نے اپنی ماں کی امیدوں کو چکنا چور کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔۔۔
فراز نے سب کو نظر انداز کر کے فون پہ بات کرنا شروع کی۔ اگلی جانب اکبر تھا ان دونوں نے ابھی کچھ دن پہلے میڈیکل کالج کے لیے این ٹی ایس کا امتحان دیا تھا اور ہر بار کی طرح فراز نے اپنی ماں کی امیدوں کو چکنا چور کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔۔۔
یار میڈیکل کا رزلٹ آگیا ہے میں سی ایم سی میں سلیکٹ ہو گیا ہوں۔
چانڈکا میڈیکل کالج اندرون سندھ کی بہترین میڈیکل کالج تھی جس کا نام ابھی ابھی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے نام سے منسوب کیا گیا تھا چانڈکا لاڑکانہ کا پرانا نام تھا جو تاریخ اعتبار سے بہت یہ اعلی حیثیت رکھتا تھا لاڑکانہ کو سیاست کا گھر سمجھا جاتا تھا۔ لاہور کے بعد لاڑکانہ ہی کو اتنا سیاسی مقام ملا تھا۔
لاڑکانہ کے ساتھ ہی گھڑی خدا بخش تھا جہاں پہ پاکستان کے سابق وزرائے اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو اپنے دوسرے احباب کے ساتھ مدفون تھے جن میں ذوالفقار علی بھٹو کے بیٹے اور بے نظیر بھٹو کے بھائی میر مرتضی اور شاہنواز بھٹو شامل تھے۔۔
لاڑکانہ شہر جتنا سیاسی لحاظ سے مقبول تھا اتنا ہی تباہی خستہ حالی اور سیاسی نظر اندازی کے دوراھے پہ تھا، سڑکیں ٹوٹی پھوٹی، سکولوں اور کالجوں کا خستہ حال نقشہ قبائلی جھگڑے اور غربت اس شہر میں بہت نمایاں تھے۔۔۔
اچھا واہ! بہت مبارک ہو۔۔
میرا کیا ہوا؟
یہ سوال عجیب تھا فراز کو معلوم تھا پھر بھی غیر ارادی طور پہ یہ سوال آیا تھا ۔۔۔
اگلی طرف کچھ توقف سے مایوس کن جواب آیا۔۔
یار تیرا نام نہیں ہے۔۔
یہ جواب معلوم ہونے کے باوجود فراز کے لیے کسی ایٹم بم سے کم نہیں تھا۔ اسے اپنی امی کی فکر کہا رہی تھی۔۔
یہ جواب معلوم ہونے کے باوجود فراز کے لیے کسی ایٹم بم سے کم نہیں تھا۔ اسے اپنی امی کی فکر کہا رہی تھی۔۔
ناصرہ نے بہت محنت و مشقت کر کے اسے ایم ڈی کیٹ میں داخلہ دلوایا تھا۔۔
اور فراز نے ہر امید کو سرے سے ختم کیا تھا۔
میڈیکل میں داخلہ بالکل بھی آسان نہیں تھا۔ فراز جیسی فیملی کے لیے یہ بہت مشکل کام تھا۔ صرف ایم ڈی کیٹ سے میڈیکل کالج میں داخلہ ایک دن دہاڑے خواب دیکھنے کے مترادف تھا۔۔۔ میڈیکل کے داخلے کے لیے اے ون گریڈ دونوں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ میں لینا لازم تھا جو کہ اچھے لکھنے پہ نہیں اچھی رقم سے ممکن تھا۔ مختلف ایگزامینیشن بورڈز نے اپنے دلال چھوڑے ہوئے تھے جو غریب بچوں سے لاکھوں بٹور کے ان کو گریڈ دلوا دیتے اور ناصرہ نے بھی اس خواب کی تکلمیل کے لیے فراز کے ابو کی شادی والی رات کے دیے ہوئے ہار کی بلی چڑھائی تھی۔۔۔
بہت مایوس ہو کے ناصرہ نے یہ قربانی دینے کا سوچا تھا اور اس قربانی کا بدلہ فراز کی نااہلی اور ناکامی کی صورت میں ملا تھا۔۔۔
کیچ۔۔۔۔۔۔!!!
اس آواز نے فراز کی سوچوں کا تسلسل توڑا تھا اور وہ موبائل کو پھینک کے بال کی طرف لگ لپکا تھا اور ڈائیو مارتے ہوئے کیچ پکڑا تھا اور اپنے ہاتھ کو توڑ بیٹھا تھا۔۔
پانچ ہزار کی شرط پہ دس ہزار کا ڈوز ناصرہ کے حصے میں آیا تھا اس کی مرہم پٹی کی صورت میں۔۔۔
ناصرہ کے سب بچے بہت قابل تھے ان کی تعلیم و تربیت میں اس کو اتنی مشقت نہیں کرنی پڑی تھی جتنی فراز کے لیے اسے خواری اٹھانی پڑی تھی۔
فراز اپنی فیملی کے لیے جیسے پہلے امپاسیبل تھا اب بھی وہی تھا۔۔
فراز کے غلط ہونے کے باوجود ڈومینیٹنگ شخصیت سب کا سر درد تھی۔ وہ اتنا شریر تھا کہ ہر شخص اس کے شر سے پناہ مانگتا تھا۔۔
رمضان شریف میں شیطان کے قید ہونے کے بجائے پورے گاؤں میں اس کے قید ہونے کی دعائیں مانگی جاتی تھیں۔۔
فراز کے غلط ہونے کے باوجود ڈومینیٹنگ شخصیت سب کا سر درد تھی۔ وہ اتنا شریر تھا کہ ہر شخص اس کے شر سے پناہ مانگتا تھا۔۔
رمضان شریف میں شیطان کے قید ہونے کے بجائے پورے گاؤں میں اس کے قید ہونے کی دعائیں مانگی جاتی تھیں۔۔
وہ شیطان تھوڑی تھا کہ قید کیا جاتا وہ تو شیطان کا بھی گرو تھا۔۔
فراز کی چوتھی جماعت کی بات ہے جب اس کے کلاس فیلو کی سلیٹ تختی پر کسی نے گالی لکھی تھی۔۔ اور اس کے فیلو نے اس پہ الزام لگایا تھا۔ استاد دوست علی جو ان کو سندھی پڑھاتے تھے نے بغیر تحقیق کیئے فراز کو دو ڈنڈے اس کے ہاتھ میں دے مارے تھے۔۔۔
فراز تو دو ڈنڈوں سے گزر چکا تھا اب استاد دوست علی کو اس سے کون بچاتا؟ یہ پتا استاد کو خود نہیں تھا۔ فراز اسکول کے باہر واٹر کورس میں چھپ گیا تھا جب استاد دوست علی سہراب سائیکل پہ سکول سے نکلا تھا اور فراز نے ہینڈ گرنیڈ کی طرح استاد دوست علی پر پتھروں کی بوچھاڑ کر دی تھی اور ان گرنیڈ میں سے ایک استاد کی ٹانگ اور ایک دائیں آنکھ سے نیچے لگا تھا، اور استاد سائیکل سے نیچے گر گئے تھے۔۔
شام کو استاد کچھ اور اساتذہ سمیت ان کے گھر نازل ہوئے تھے اور جاوید جو اس کے بڑے بھائی تھے اور اس کے ماموں علی اصغر جو خود پرائمری سکول ٹیچر تھے نے فراز کو مجرم بنا کے کٹہڑے میں کھڑا کیا تھا اور فراز کو مجرم ٹھہرایا گیا تھا۔۔ اور جاوید غصے میں اس کی طرف اٹھا تھا اور استاد دوست علی نے ان کو یہ کہتے ہوئے روکا تھا کہ بچہ ہے بس سمجھائیں ماریں نہیں۔۔
جس پہ فراز بے شرموں کی طرح بولا تھا کہ اگر اتنا خیال ہوتا تو ادھر آتے ہی کیوں؟
جس پہ جاوید نے غصے میں بڑبڑا کر کچھ بولا تھا جس پہ فراز نے استاد دوست علی سے یہ دہمکی دے کر اپنی بچت کروائی تھی کہ استاد اگر مجھے گھر پہ کسی نے مارا یا کچھ کہا تو کل گلیل لے آؤں گا اور کنچے سے ماروں گا۔۔۔ اور یوں شکایت کرنے والا استاد دوست علی بیچارہ سفارش کرتا ہوا پھٹے زخموں کے ساتھ گھر رخصت ہوا تھا۔۔