بھائی ٹھیک ہو جائیں نا!
اب لڑائی نہیں کروں گی ٹی وی پر بھی تم اپنی مرضی کا چینل چلا لینا ۔
میں دوپہر میں میکرونی بھی بنا کر دوں گی۔۔۔
یہ بے بسی عرفہ کی تھی اور اسی بے بسی نے وارڈ کے اندر ہر کسی کو جھنجھلا دیا تھا عرفہ فراز کی ٹون سسٹر تھی اور عمر کے بیس سالوں میں پچاس ہزار سے بھی زیادہ ان کے درمیان جنگ عظیم ہو چکی تھی۔۔
کیا بے بسی تھی فاتحہ رہنے والے ہتھیار ڈالنے کو تیار تھے
کیا بے چینی تھی کہ جس کا قرار فراز سے مشروط تھا
کیا کرب تھا جس میں فراز کے لواحقین مبتلا تھے۔۔۔
فراز!
تمہیں سہرا باندھنا میری زندگی سب سے حسین خواہش ہے۔ تمہارے بچوں کے ساتھ وقت گزاری میری آس ہے۔ گیت گانے کی عمر میں یہ روگ مت دو میں وقت سے پہلے بوڑھی ہو چکی ہوں۔ تمہارے باپ کے جانے کے بعد تم لوگوں کو کسی منزل پر پہنچانے کی جستجو نے میری کمر توڑ ڈالی ہے ۔
میں نے اپنی ہر خواہش پسپا کر کے تم لوگوں کی خواہش کو اپنا راز حیات بنایا ہے میری بس یہ خواہش پوری کر دو۔۔۔
ماں تھی کیا مانگتی؟ مانگنا تو یہی تھا یہی دعا بھی تھی تو التجا بھی۔۔۔ مگر دینا کس نے تھا فراز دے سکتا تھا جو فراز سے مانگا گیا تھا؟
وہ اس کے بس میں تھوڑی تھا وہ تو سب خالق کر سکتے تھے وہی ان کی آہ و زاری سن سکتے تھے ان کی دعاؤں پہ کن فرما سکتے تھے ان کے دامن کو فراز کی حیات کی خوشی سے پر کر سکتے تھے۔
فراز کا پمز ہسپتال میں یہ دسواں دن تھا اس کے گھر والے دس دن سے کسی مسافر کی طرح سارا دن فراز کے وارڈ میں وارڈن سے آنکھ بچا کے اس کے بیڈ کو گھیرے رکھتے اور وارڈن کے پکڑنے پہ وارڈن کی زہریلی باتیں سنتے اور صبر کرتے اور رات میں ان سب کو وارڈ کے باہر نکالا جاتا اور وہ ٹھنڈ اور بارش میں کسی سہارے کی تلاش میں کبھی مسجد کے اندر تو کبھی کسی عمارت کی روف کے نیچے رات گزارتے۔۔
پمز سے 20 کلومیٹر کی دوری پہ موجود گھر ہونے کے باوجود عرفہ اور اس کی امی ایک دن بھی گھر نہیں گئے تھے۔
جیسے کوئی خوف ہو کچھ بھیانک ہونے کا۔
شاید کوئی ڈر ہو کہ ان کے جاتے ہی فراز کو کوئی چھین نہ لے۔۔
کینٹین تک جاتے ہوئے بھی کوئی بھی کال فراز کی امی کو دہلا دیتی کہ شاید کچھ ہو نہ گیا ہو۔۔۔
مائیں واقعی بچوں کی ڈھال ہوتی ہیں، وہ بچپن میں اپنے بچوں کو باپ کی سختی سے بچانے کی ہر کوشش کرتی ہیں اور محلے میں بچوں کی لڑائی کے بعد اپنے بچوں کی حمایت کر کے ان کو ہر خطرے اور جھاڑ سے محفوظ رکھتی ہیں۔۔۔ ناصرہ بھی یہی کر رہی تھی وہ اپنے فراز، اپنے لخت جگر کے لیے ملک الموت سے بھی ٹکرانے کو تیار تھی۔۔
وہ فراز کی ہر بلا لینے کو تیار تھی فراز اس کا پانچواں بیٹا تھا اور بچپن سے اپنی ماں کے لیے آزمائش ہی بنتا آیا تھا۔۔
جب بولنا شروع کیا تھا تو ناصرہ کو اماں امی یا ماں کی جگہ دادا بلاتا تھا جس کی اہم وجہ اس کے بڑے بھائی اور بہنوں کی اولادیں تھیں جو ان کو دادو بلاتے تھے۔۔۔ ناصرہ کی ہر کوشش کو ناکام کرتے ہوئے اس نے دادا بولنا نہیں چھوڑا تھا۔۔