باوضو افسر

Musavir Jinsar

پتا ہے بہت ہی کڑک افسر نے جوائن کیا ہے، کسی کی کوئی بات ہی نہیں سنتا، سننے میں آیا ہے کہ پہلے ہی دن ہی منسٹر کے پی ایس کو ڈانٹ کے بھگا دیا ہے کہ منسٹر کو پئٹرول کیوں دینا ہے.

سیکشن میں موجود سٹاف کے سرگوشیاں سننے کے ساتھ ساتھ میں کافی پھینٹنے میں مصروف عمل تھا.

کہاں چل پائے گا، تبادلہ ہو جائیگا، تم اپنے کام پہ فوکس کرو، اس مہینے تین لاکھ چوبیس ہزار کم کولیکشن ہوئی ہے اور ڈائریکٹر صاحب نے بہت ناراضگی کا اظہار کیا ہے، حضور بخش نے سرگوشی کرنے والے دین محمد کو ٹوکا.

اکاؤنٹس ڈپارٹمنٹ میں مگرمچھوں کے درمیان ایک ڈالفن کی آمد غیر متوقع تو تھی مگر مجھ جیسے نوجوان کے لیئے حوصلہ افزائی تھی کہ اب اس اندھے کنوئیں میں دو بینائی رکھنے والے لوگ تھے

سید سبط علی سندہ گورنمنٹ کے اکاؤنٹس ڈپارٹمنٹ میں بطور ڈائریکٹر جنرل تعینات ہوئے تھے، جن کی پوسٹنگ سے پورے ڈپارٹمنٹ میں جیسے سانپ سونگھ گیا ہو۔۔۔۔

دو سال تک کھڈے لائن پوسٹنگ کے بعد سید سبط علی نے مجھے اے ڈی ایڈمن مقرر کیا تھا اور میری تقرری کے بعد مجھ سمیت پورے ایڈمن ڈپارٹمنٹ کے ساتھ میٹنگ کی تھی جس میٹنگ میں انھوں نے ایمانداری کے حوالے سے کافی گہری باتیں کی تھی، ایڈمن سٹاف تو خیر کافی بوریت کا شکار ہوا تھا مگر میری خوشی کی انتہا تھی کہ میرا پی سی ایس کرنے کا اصل مقصد اب پورا ہو سکتا ہے۔

ڈی جی صاحب نے مجھے آفس میں بلا کر بولا کہ اعتزاز ہم عوامی فنڈز کے نگران ہیں اور ہم نے میرٹ پر چل کر لوگوں کے مال کی حفاظت کرنی ہے، انہوں نے بہت خوب بات کہی کہ ہم اس دلدل سے ملک کو نکال تو نہیں سکتے البتہ ہمارے نیک اعمال اس چڑیا کی طرح ضرور ہیں جس نے حضرت ابراہیم پر چونچ میں پانی لا کر آگ بجھانے کی غرض سے آگ کے اوپر پانی پھینکا تھا، اور کہا کہ آئندہ ٹینڈر کے لفافے ٹینڈر کھلنے کے دن ہی کھلینگے، اس لیئے تم نے باحفاظت رکھنے ہیں یا میری آفس کے اس دراز میں رکھنے ہیں، انہوں نے سبز رنگ کی شیلف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا یہ چلتا رہا، ضمیر کافی مطمئن تھا کہ ہم کچھ اچھا کر رہے ہیں اور سبط علی صاحب کے اخلاق اور اعمال کی گواہی پورا آفس دے رہا تھا، حتی' کہ وہ بھی جن کی ماہانہ کولیکشن ہوتی تھی یہ روز کی بات ہے کہ صبح کو دس بجے میرا فون بجا تو میری موبائل سکرین پر ڈی جی صاحب کا نمبر نمایاں تھا، "اسلام علیکم سر" وعلیکم السلام اعتزاز بچے کیسے ہو؟ الحمدللہ سر، آپ ٹھیک ہیں؟ ہاں بچے، یار ایک ڈرائیور کو لوڈر کے ساتھ میرے گھر بھیجیں تھوڑا سا کام ہے، مجھے آفس آنا ہے ورنہ میں خود کروا لیتا، او کے سر، میں مراد ڈرائیور کو آپ کے گھر بھیج رہا ہوں".

میں دوپہر ایک بجے کسی کلائنٹ کے ساتھ لنچ اور میٹنگ پر نکلا تو ملینیم مال کے قریب میری نظر آفس کی لوڈر اور ڈرائیور پر پڑی تو میں گاڑی اگلے سگنل پر موڑ کر ان کے پاس چلا آیا،

اسلام علیکم سر، مراد نے مجھے گاڑی سے اترتے ہوئے دیکھتے بولا،

وعلیکم السلام، یہاں کیا ہو رہا ہے مراد؟ مراد جواب دینے ہی والا تھا کہ اندر سے کنٹریکٹر وسیم نمودار ہوا، جس نے ہاتھ ملاتے ہوئے پوچھا کہ سر کیا پیئیں گے آپ چائے یا جوس ؟ میں نے شکریہ کہتے ہوئے پوچھا کہ خیریت، آپ مراد کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟ وسیم نے پان چباتے ہوئے بولا کچھ نہیں سر جی، سبط علی صاحب کی صاحبزادی کی سائیکل خراب ہو گئی تھی تو نئی سائیکل دلوانے لایا تھا۔۔۔۔۔۔

یہ بات سنتے ہوئے محسوس ہو کہ کسی نے میرے کانوں میں گرم شیشہ ڈال دیا ہو، میں نے سب شک و شبہات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پوچھا کہ پیمنٹ سر نے کی ہے یا میں دے دوں پیسے؟ جس پر وسیم مسکراتے ہوئے بولے کہ سر آپ ایمانداری کے ساتھ ڈی جی صاحب کی ڈیمانڈز پوری کرنے سے قاصر ہیں، ہم نے تو LED اور صوفہ سیٹ بھی لینا ہے ابھی۔۔۔ میں نے لرزتے ہونٹوں کے ساتھ پوچھا، پے، پے، پیمنٹ ؟ اگلے ٹینڈر میں ایڈجسٹ ہو جائیگی سر جی، آپ کو کچھ چاہئیے تو حکم کریں؟ میں نے ہاتھ سے انکار کرتے ہوئے، شدید کرب اور تکلیف میں کلائنٹ کے ساتھ میٹنگ کے بجائے آفس آگیا جہاں پر وہی ڈی جی صاحب کے سخت مزاج اور دینداری کی سرگوشیاں چل رہیں تھی

"پتا ہے، ڈی جی صاحب کے پی اے بتا رہے تھے کہ صاحب ہمیشہ با وضو رہتے ہیں، اور ان کے ڈرائیور بتا رہے تھے کہ گھر سے آفس تک اور آفس تک تقریباً چالیس منٹ کی مسافت میں مسلسل قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں"

یہ باتیں سن کر میں نے اپنی کیبن سے باہر آتے ہوئے طنزیہ مسکراتے ہوئے بھرپور انداز میں کہا ''سبحان اللہ.

© 2026 Musavir Jinsar. All rights reserved.